اگر اللہ موجود ہے تو دنیا میں ظلم کیوں ہے؟ یہ سوال الحاد کے سب سے مشہور اعتراضات میں شمار ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ پوچھتے ہیں کہ اگر اللہ عادل، رحیم اور قادرِ مطلق ہے تو پھر معصوم بچوں کی تکلیف، قدرتی آفات، بیماریاں اور ناانصافیاں کیوں موجود ہیں؟ اس مضمون میں ہم مسئلۂ شر (Problem of Evil) کا اسلامی، عقلی اور فلسفیانہ جائزہ لیں گے اور دیکھیں گے کہ ظلم کا وجود واقعی اللہ کے وجود کے خلاف دلیل ہے یا نہیں۔
مختصر جواب : اگر اللہ موجود ہے تو ظلم اس لیے موجود ہے کہ دنیا جنت نہیں بلکہ امتحان گاہ ہے۔ اللہ نے انسان کو اختیار دیا ہے، اسی لیے وہ نیکی بھی کر سکتا ہے اور ظلم بھی۔ ظلم کا وجود اللہ کے عدمِ وجود کی دلیل نہیں بلکہ انسانی اختیار، الٰہی حکمت اور آخرت کے عدل کو سمجھنے کا مسئلہ ہے۔
یہ سوال جدید الحاد کا سب سے مشہور اعتراض ہے۔ملحد کہتا ہے:«اگر اللہ قادرِ مطلق، رحیم اور عادل ہے تو دنیا میں ظلم کیوں ہے؟ معصوم بچے کیوں مرتے ہیں؟ زلزلے اور سیلاب کیوں آتے ہیں؟ بیماریاں کیوں پھیلتی ہیں؟»بظاہر یہ سوال بہت مضبوط لگتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ اللہ کے وجود کے خلاف دلیل نہیں بلکہ اللہ کی حکمت کے بارے میں سوال ہے۔کیونکہ ظلم کا وجود زیادہ سے زیادہ یہ ثابت کرتا ہے کہ:«"مجھے اس کی حکمت سمجھ نہیں آئی"»یہ ثابت نہیں کرتا کہ:«"اس کے پیچھے کوئی حکمت موجود ہی نہیں۔"»
پہلی حقیقت:اگر ظلم اللہ کے خلاف دلیل ہے تو عدل اللہ کے حق میں دلیل کیوں نہیں؟
دنیا میں صرف ظلم نہیں ہے۔
اسی دنیا میں:-
ماں کی محبت بھی ہے۔
باپ کی قربانی بھی ہے۔
یتیموں کی کفالت بھی ہے۔
بیماروں کا علاج بھی ہے۔
مظلوموں کی مدد بھی ہے۔
انسانیت کی خدمت بھی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر ظلم کو دیکھ کر اللہ کا انکار کیا جاتا ہے تو عدل، محبت اور رحمت کو دیکھ کر اللہ کا اقرار کیوں نہیں کیا جاتا؟اگر کوئی کہے:«ظلم موجود ہے، لہٰذا اللہ موجود نہیں۔»تو دوسرا شخص کہہ سکتا ہے:«عدل موجود ہے، لہٰذا اللہ موجود ہے۔»لہٰذا صرف شر کو دلیل بنانا اور خیر کو نظر انداز کرنا منطقی انصاف کے خلاف ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:(أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ ۚ فَمَا جَزَاءُ مَن يَفْعَلُ ذَٰلِكَ مِنكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إِلَىٰ أَشَدِّ الْعَذَابِ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ)
ترجمہ : تو کیا تم کتابِ ( الٰہی ) کے کچھ حصہ کو مانتے ہو اور کچھ کو نہیں مانتے ہو ؟جو شخص ایسا عمل کرے ، دنیا میں رسوائی ، اور قیامت کے دن سخت ترین عذاب میں مبتلا کئے جانے کے سوا اس کی اور کیا سزا ہوسکتی ہے ؟ ؟ اور اﷲ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں ہیں ۔
دوسری حقیقت:ظلم کو ظلم کہنا خود اللہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے
ملحد جب کہتا ہے:«دنیا میں ظلم ہے۔»تو وہ دراصل ایک اخلاقی معیار تسلیم کر رہا ہوتا ہے۔کیونکہ ظلم صرف اسی وقت ظلم کہلاتا ہے جب عدل ایک حقیقی قدر ہو۔اب سوال پیدا ہوتا ہے:اگر کائنات محض مادی ذرات اور اندھے قدرتی قوانین کا نتیجہ ہے تو پھر:- عدل اچھا کیوں ہے؟- ظلم برا کیوں ہے؟- رحم قابل تعریف کیوں ہے؟- قتل قابل مذمت کیوں ہے؟اگر کوئی مطلق اخلاقی معیار موجود نہیں تو پھر ظلم کے خلاف اعتراض بھی بے بنیاد ہو جاتا ہے۔
قرآن کریم کی ان آیتوں پر غورو فکر کریں : (وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا ٧ فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا ٨ قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا ٩ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا) اور(انسان کی) جان کی قسم اور اس ذات کی جس نے اس کو ٹھیک ٹھیک بنایا ، پھر اس کو اس کی بدکرداری اورپرہیزگاری سمجھادی ، یقیناً جس نے نفس کو سنوار لیا ، وہ کامیاب ہوگیا ، اور جس نے اس کو خاک میں ملادیا (یعنی نفسانی خواہشات سے آلودہ رکھا ) ، وہ گھاٹے میں رہا۔
تیسری حقیقت: محدود علم، لامحدود حکمت کا احاطہ نہیں کر سکتا
فرض کریں ایک شخص ایک جانور کو پالتا ہے۔اسے خوراک دیتا ہے، علاج کرواتا ہے اور اس کی دیکھ بھال کرتا ہے۔پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہی شخص اسے فروخت کر دیتا ہے یا ذبح کر دیتا ہے۔اگر جانور سوچنے کی صلاحیت رکھتا تو شاید وہ سمجھتا کہ اس کا مالک اس پر ظلم کر رہا ہے۔لیکن حقیقت میں جانور پورے معاملے کی حکمت نہیں جانتا۔اس کا علم محدود ہے۔اسی طرح انسان بھی اللہ تعالیٰ کی تمام حکمتوں کا احاطہ نہیں کر سکتا۔
﴿وَیَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلرُّوحِۖ قُلِ ٱلرُّوحُ مِنۡ أَمۡرِ رَبِّی وَمَاۤ أُوتِیتُم مِّنَ ٱلۡعِلۡمِ إِلَّا قَلِیلࣰا ٨٥﴾ سورة الإسراء.
اور لوگ آپ سے روح کے بارے میں دریافت کررہے ہیں ، آپ کہہ دیجئے : روح میرے پروردگار کے حکم سے بنی ہے اور تم کو تو بس تھوڑا ہی سا علم دیا گیا ہے ۔ لہٰذا اگر کسی انسان کو کسی مصیبت کی حکمت سمجھ نہ آئے تو وہ صرف اتنا کہہ سکتا ہے:«مجھے حکمت معلوم نہیں۔»لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکتا:«کوئی حکمت موجود ہی نہیں۔»یہ دونوں باتیں الگ الگ ہیں۔
چوتھی حقیقت: ہر تکلیف ظلم نہیں ہوتی
فرض کریں ایک بچے کا آپریشن ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر اس کے جسم پر نشتر چلا رہا ہے۔بچہ تکلیف محسوس کر رہا ہے۔اگر بچہ صرف ظاہری منظر دیکھے تو شاید سمجھے کہ اس پر ظلم ہو رہا ہے۔لیکن حقیقت میں یہی آپریشن اس کی جان بچا رہا ہوتا ہے۔باپ اپنے بیٹے سے محبت کرتا ہے، اس کے باوجود وہ ڈاکٹر کو نہیں روکتا۔کیوں؟کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وقتی تکلیف مستقل فائدے کا ذریعہ بنے گی۔اگر باپ جذبات میں آ کر آپریشن رکوا دے تو بچے کی جان بھی جا سکتی ہے۔
یہ مثال ہمیں سکھاتی ہے کہ:ہر تکلیف ظلم نہیں ہوتی، اور ہر ناگوار چیز بے مقصد نہیں ہوتی۔اسی چیز کو اللہ نے قرآن کریم اس طرح بیان فرمایا ہے: ﴿كُتِبَ عَلَیۡكُمُ ٱلۡقِتَالُ وَهُوَ كُرۡهࣱ لَّكُمۡۖ وَعَسَىٰۤ أَن تَكۡرَهُوا۟ شَیۡـࣰٔا وَهُوَ خَیۡرࣱ لَّكُمۡۖ وَعَسَىٰۤ أَن تُحِبُّوا۟ شَیۡـࣰٔا وَهُوَ شَرࣱّ لَّكُمۡۚ وَٱللَّهُ یَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ﴾ [البقرة ٢١٦]
تم پر جہاد فرض کیا گیا ہے جو تم پر گراں ہے ، ممکن ہے کہ ایک چیز تم کو بری لگے ؛ حالاں کہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہو ، اورہوسکتا ہے کہ ایک چیز تم کو پسند ہو ؛ حالاں کہ وہ تمہارے حق میں بہتر نہ ہو ، اور اﷲ جانتے ہیں ، تم نہیں جانتے۔
اللہ ظلم کو فوراً کیوں نہیں روکتا؟
اسلام کے مطابق دنیا امتحان گاہ ہے۔اگر اللہ ہر ظالم کا ہاتھ فوراً پکڑ لے تو:- کوئی گناہ نہ کر سکے،- کوئی جھوٹ نہ بول سکے،- کوئی ظلم نہ کر سکے،تو پھر انسان کا اختیار ختم ہو جائے گا۔اور جب اختیار ختم ہو جائے تو امتحان بھی ختم ہو جائے گا۔پھر نیکی اور بدی کا کوئی مفہوم باقی نہیں رہے گا۔ اسی لئے اللہ تعالٰی نے فرمایا: ﴿إِنَّا هَدَیۡنَـٰهُ ٱلسَّبِیلَ إِمَّا شَاكِرࣰا وَإِمَّا كَفُورًا﴾ [الإنسان ٣] ترجمہ: ہم نے اس کو راستہ بھی دکھایا کہ وہ شکر گزار بنتا ہے یا ناشکرا ؟اور دوسری جگہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: (وَ ھَدَیْنٰہُ النَّجْدَیْنِ) سورۃ البلد : 10. ترجمہ : اور ہم نے اس کو (خیر و شر کے) دونوں راستے دکھا دیئے ،
قدرتی آفات کیوں آتی ہیں؟
بعض لوگ پوچھتے ہیں:«اگر اللہ موجود ہے تو زلزلے اور سیلاب کیوں آتے ہیں؟»حقیقت یہ ہے کہ یہی قدرتی نظام زمین پر زندگی کو ممکن بناتا ہے۔زمین کے وہی قوانین جو زندگی پیدا کرتے ہیں، بعض اوقات آزمائشوں کا سبب بھی بنتے ہیں۔انسان ہر واقعے کی مکمل حکمت نہیں جان سکتا، لیکن محدود علم کی بنیاد پر الٰہی حکمت کا انکار بھی نہیں کر سکتا۔
آخرت:
آخرت کے بغیر عدل مکمل نہیں ہو سکتا
دنیا میں بہت سے ظالم سزا سے بچ جاتے ہیں۔
اور بہت سے مظلوم انصاف پائے بغیر دنیا سے چلے جاتے ہیں۔
اگر صرف دنیا ہی سب کچھ ہو تو عدل کا سوال واقعی پیدا ہوتا ہے۔
لیکن اسلام آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔
قیامت کے دن:
- ہر مظلوم کو اس کا حق ملے گا۔
- ہر ظالم اپنے اعمال کا حساب دے گا۔
- کامل انصاف قائم ہوگا۔
اسی لیے اسلامی تصورِ عدل دنیا اور آخرت دونوں کو شامل کرتا ہے۔