رزق ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں لوگ سرچ کرتے ہیں: “Quran ayat for rizq” “Surah for increase in wealth”“رزق میں برکت کی دعا اور وظیفہ” قرآن کریم واضح کرتا ہے کہ رزق کا اصل مالک اللہ تعالیٰ ہے، اور رزق و کاروبار میں برکت صرف اسی کی اطاعت، تقویٰ اور دعا سے حاصل ہوتی ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم قرآنی آیات، سورتوں اور عملی اصولوں کا ذکر کریں گے جو رزق میں کشادگی اور برکت کا ذریعہ بنتے ہیں۔
عنوان کے عناصر
Toggleرزق کا مالک صرف اللہ ہے:
اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو پیدا فرمایا اور اُن کے رزق کی ذمہ داری اپنے ذمہ لے لی۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: “وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ” (سورۃ ہود: 6) یعنی زمین میں چلنے والا ہر جاندار اللہ کے ذمۂ رزق ہے، اور وہ اس کے ٹھکانے اور انجام کو جانتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے رزق کے کچھ اصول بھی بیان فرمائے ہیں۔ ان میں ایک اہم اصول یہ ہے کہ رزق کے لیے کوشش اور جدوجہد ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِن رِّزْقِهِ وَإِلَيْهِ النُّشُورُ” (سورۃ الملک: 15) یعنی زمین میں چلو اور اللہ کے رزق میں سے کھاؤ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ توکل کے ساتھ محنت بھی ضروری ہے۔
اسی طرح رزق صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے: “إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ” (سورۃ البقرہ: 212)
لہٰذا مسلمان کو یقین رکھنا چاہیے کہ رزق اللہ کی طرف سے ہے، حلال طریقہ اختیار کرے، جلد بازی نہ کرے، اور اگر تنگی آئے تو اسے آزمائش یا درجات کی بلندی سمجھے۔ محنت، توکل اور حلال کمائی ہی رزق میں برکت کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ (سورۃ الذاریات: 58) ترجمہ: بے شک اللہ ہی بڑا رزق دینے والا، قوت والا اور مضبوط ہے۔
رزق میں اضافہ کرنے والی اہم قرآنی آیات:
قرآن میں رزق میں اضافے کے لیے کوئی مخصوص سورت مقرر نہیں ہے، بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قرآنِ کریم میں کوئی خاص سورت یا آیت ایسی ہے جسے مخصوص تعداد میں پڑھنے سے لازماً رزق میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن و سنت میں ایسی کوئی صریح اور قطعی دلیل موجود نہیں جس میں کسی خاص سورت کو صرف رزق حاصل کرنے کے لیے مخصوص کیا گیا ہو۔ البتہ بعض سورتوں کے فضائل احادیث میں وارد ہوئے ہیں، لیکن انہیں ایک “وظیفہ برائے رزق” کے طور پر لازم سمجھنا درست نہیں۔
یہ دھیان میں رکھنا چاہیے کہ پورا قرآن خیر و برکت ہے قرآن کریم مکمل طور پر ہدایت، رحمت اور برکت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: هَٰذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ “یہ ایک بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے۔”
یعنی قرآن کی ہر آیت میں خیر ہے، ہر سورت میں برکت ہے، اور اس کی تلاوت، سمجھنا اور اس پر عمل کرنا انسان کی دنیا و آخرت دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ لہٰذا مسلمان کو اختیار ہے کہ وہ قرآن میں سے جو چاہے پڑھے، کیونکہ اصل مقصد اللہ سے تعلق مضبوط کرنا ہے، نہ کہ صرف دنیاوی فائدہ حاصل کرنا۔
رزق کے اصل اسباب کیا ہیں؟
شرعی اسباب بے شمار ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ بندے کے رزق میں وسعت اور برکت عطا فرماتا ہے۔ ان اسباب کا تعلق محض ظاہری محنت سے نہیں بلکہ باطنی اصلاح، تقویٰ، توبہ، دعا اور حلال کمائی سے بھی ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ رزق کا معاملہ صرف مادی تدابیر پر موقوف نہیں بلکہ روحانی اسباب بھی اس میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
رزق میں برکت کاسب سے پہلا اور بنیادی سبب تقویٰ ہے :
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے "وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا * وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ” الطلاق/2-3 .اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے، اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔”
تقویٰ کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی کرنا اور اس کی نافرمانی سے بچنا۔ جب بندہ اپنی زندگی کو اللہ کے احکام کے مطابق ڈھال لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کے راستے پیدا فرما دیتا ہے اور اسے ایسے ذرائع سے رزق عطا کرتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔ سورۂ الطلاق کی آیت (2-3) اسی حقیقت کو بیان کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تقویٰ صرف روحانی کامیابی کا ذریعہ نہیں بلکہ دنیاوی آسانیوں اور مالی کشادگی کا بھی سبب ہے۔ جو شخص حرام سے بچتا ہے، معاملات میں دیانت اختیار کرتا ہے اور اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے برکت کے دروازے کھول دیتا ہے۔
رزق میں برکت کادوسرا اہم سبب استغفار ہے ۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ (سورۃ نوح: 10-12) پس میں نے کہا: اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بہت بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر خوب بارش برسائے گا، اور تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا، اور تمہارے لیے باغات پیدا کرے گا اور تمہارے لیے نہریں جاری کرے گا۔
اس آیت میں حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کے ضمن میں بیان ہوا کہ استغفار کے نتیجے میں بارشوں کی کثرت، مال و اولاد میں اضافہ اور باغات و نہروں کی فراوانی نصیب ہوتی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ گناہ رزق میں رکاوٹ بن سکتے ہیں اور استغفار ان رکاوٹوں کو دور کرتا ہے۔
سورۂ ہود کی آیت میں بھی توبہ و استغفار کے بدلے میں اچھا سامانِ زندگی دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” وَأَنِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُمْ مَتَاعاً حَسَناً إِلَى أَجَلٍ مُسَمّىً وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِير” اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی مانگو، پھر اس کی طرف توبہ کرو، وہ تمہیں ایک مقررہ مدت تک اچھا سامانِ زندگی دے گا، اور ہر فضیلت والے کو اس کی فضیلت عطا کرے گا، اور اگر تم منہ پھیرو گے تو مجھے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے۔”(سورۂ ہود: 3)
امامِ مفسرین قرطبیؒ نے ابنِ صبیح کے حوالے سے ایک نہایت بلیغ اور معنی خیز واقعہ نقل کیا ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں:
ایک شخص حضرت حسن بصریؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ قحط سالی نے ہمیں گھیر لیا ہے، زمین بنجر ہو چکی ہے اور آسمان نے گویا اپنی رحمت روک لی ہے۔ آپؒ نے نہایت سکون سے فرمایا:
“اللہ سے استغفار کرو۔”
کچھ دیر بعد دوسرا شخص آیا اور فقر و تنگ دستی کی شکایت کی۔ اس کے چہرے پر محرومی اور پریشانی کے آثار نمایاں تھے۔ حضرت حسن بصریؒ نے اسے بھی وہی مختصر مگر جامع جواب دیا:
“اللہ سے استغفار کرو۔”
پھر ایک اور شخص حاضر ہوا اور عرض کیا: میرے ہاں اولاد نہیں، آپ دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے فرزند عطا کرے۔ آپؒ نے اس کو بھی یہی نصیحت فرمائی:
“استغفار کو لازم پکڑ لو۔”
اس کے بعد ایک شخص اپنے سوکھے ہوئے باغ اور اجڑے ہوئے کھیتوں کی فریاد لے کر آیا۔ اس کی محنت رائیگاں جا چکی تھی اور اس کا دل مایوسی سے بھر گیا تھا۔ حضرت حسن بصریؒ نے اس کو بھی وہی کلمہ عطا فرمایا:
“استغفار کرو۔”
یہ منظر دیکھ کر ربیع بن صبیحؒ نے عرض کیا:
“لوگ مختلف حاجتیں اور الگ الگ مصیبتیں لے کر آپ کے پاس آئے، مگر آپ نے سب کو ایک ہی علاج بتایا!”
اس پر گویا یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ حضرت حسن بصریؒ کا اشارہ قرآنِ کریم کی اس تعلیم کی طرف تھا جس میں استغفار کو رحمتِ الٰہی کے نزول، بارش کی کثرت، مال و اولاد کی فراوانی اور زمین کی زرخیزی کا سبب قرار دیا گیا ہے۔
اسی بنا پر علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے “الوابل الصيب” میں استغفار کو رزق کو کھینچ لانے والے اذکار میں شمار کیا ہے۔ جب بندہ بار بار اللہ سے معافی مانگتا ہے تو اس کے دل کی سختی دور ہوتی ہے، مشکلات میں نرمی آتی ہے اور اللہ کی رحمت متوجہ ہوتی ہے۔
رزق میں وسعت و فراخی کا تیسرا عظیم سبب دعا ہے۔
دعا بندے اور اللہ کے درمیان مضبوط تعلق کا ذریعہ ہے۔ نبی کریم ﷺ کا فجر کے بعد یہ دعا پڑھنا "الَّلهُمَّ إِنِّي أَسأَلُكَ رِزقًا طَيِّبًا ، وَعِلمًا نَافِعًا ، وَعَمَلاً مُتَقَبَّلاً” کہ “اے اللہ! میں تجھ سے پاکیزہ رزق، نفع بخش علم اور قبول ہونے والا عمل مانگتا ہوں” اسے امام احمد نے اپنی کتاب "المسند” (جلد 6، صفحہ 294) میں اور ابن ماجہ نے اپنی کتاب "السنن” (حدیث نمبر 66) میں روایت کیا ہے۔
اس بات کی دلیل ہے کہ رزق کے لیے اللہ سے براہِ راست سوال کرنا سنت ہے۔ دعا انسان کے اندر عاجزی پیدا کرتی ہے اور اسے یہ احساس دلاتی ہے کہ اصل دینے والا اللہ ہے۔ جب دعا حلال کمائی اور اطاعت کے ساتھ ہو تو اس کے اثرات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ اسی حقیقت کو یحییٰ بن معاذ رازی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ اطاعت اللہ کے خزانوں میں محفوظ ہے، اس کی کنجی دعا ہے اور اس کے دانت حلال کمائی ہیں۔ یعنی اگر دعا کے ساتھ حلال روزی اور اطاعت نہ ہو تو تاثیر کمزور ہو سکتی ہے۔
رزق کے حصول میں اللہ پر سچا توکل :
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ} (الطلاق) یعنی جو اللہ پر توکل کرے، وہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے اور اس کی ضروریات پوری کر دیتا ہے۔
توکل کا مطلب یہ ہے کہ انسان اسباب اختیار کرے لیکن دل کو اللہ تعالیٰ سے وابستہ رکھے، جو اصل سبب بنانے والا ہے۔ نفع و نقصان، رزق کی وسعت اور آسانی کے لیے دل کا سہارا صرف اللہ ہو۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “اگر تم اللہ پر سچا توکل کرو تو وہ تمہیں اسی طرح رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے؛ وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹ لوٹتے ہیں۔ (رواہ احمد و ترمذی، اور امام ترمذی اس حدیث کو حسن صحیح کہا) یعنی پرندے صرف کوشش کرتے ہیں اور اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں، پھر اللہ انہیں رزق عطا فرماتا ہے۔
ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث رزق حاصل کرنے کے عظیم اسباب میں سے ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے رزق کے معاملے میں اللہ پر توکل کیا ہے، کیونکہ جو رزق مقدر ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا، اللہ اپنے فضل سے ضرور پہنچا دیتا ہے۔
صلہ رحمی (رشتہ داروں سے حسنِ سلوک اور تعلق قائم رکھنا) کو اللہ تعالیٰ نے رزق میں وسعت، مال و اولاد میں برکت، صحت اور عمر میں اضافہ کا سبب بنایا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا "مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ له فِي رِزْقِهِ، وأَنْ يُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ، فَلْيَصِلْ” کہ جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں کشادگی ہو اور اس کی عمر بڑھائی جائے، وہ اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرے۔ (بخاری) ایک اور حدیث میں ہے کہ صلہ رحمی گھر والوں میں محبت پیدا کرتی ہے، مال میں اضافہ اور عمر میں برکت کا ذریعہ بنتی ہے۔
صلہ رحمی کا مطلب ہے: رشتہ داروں کی زیارت کرنا، ان کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آنا، بیماروں کی عیادت کرنا، خوشی اور غم میں شریک ہونا، ضرورت مندوں کی مالی مدد کرنا۔
شکر اور رضامندی— نعمتوں میں اضافہ
اللہ تعالیٰ نے شکر کرنے والوں کے لیے زیادتی کا وعدہ فرمایا ہے: "وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ” ترجمہ: “اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا، اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے۔”(سورۂ ابراہیم: 7)
رہا رضا، تو یہ سب سے بڑی دولت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:”ارض بما قسم الله لك تكن أغنى الناس” یعنی: “اللہ کی تقسیم پر راضی رہو، تم سب سے زیادہ غنی ہو جاؤ گے۔” (ترمذی وغیرہ نے روایت کیا ہے)
🔹 شکرگزاری اللہ کی طرف سے مزید نعمتوں کا وعدہ ہے۔
🔹 مالی برکت کے لیے شکر بنیادی اصول ہے۔
رزق میں برکت کے لیے کون سی سورت پڑھیں؟ (تحقیقی جائزہ)
سورہ القارعہ :
سنتِ نبوی ﷺ میں ایسی کوئی صحیح اور ثابت روایت موجود نہیں ہے جس سے یہ معلوم ہو کہ سورۂ القارعہ کی تلاوت رزق کے حصول یا کشادگی کا خاص سبب بنتی ہے۔
سورۃ الواقعہ:
رزق کے سلسلے میں سورۂ الواقعہ کے بارے میں ایک روایت منقول ہے، مگر وہ بھی نبی کریم ﷺ سے صحیح سند کے ساتھ ثابت نہیں۔ یہ روایت امام بیہقیؒ نے شعب الإيمان میں، اور امام طبرانیؒ اور حارثؒ نے اپنی مسند میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جو شخص ہر رات سورۂ الواقعہ کی تلاوت کرے، اسے کبھی فقر و فاقہ لاحق نہیں ہوگا۔” لیکن محدثینِ کرام کی تحقیق کے مطابق یہ حدیث ضعیف ہے، اس لیے اسے قطعی طور پر نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔
لہٰذا کسی مخصوص سورت کو رزق کے لیے لازم یا مؤثر سمجھنے کے بجائے، قرآن و سنت میں بیان کردہ عمومی اسباب — جیسے تقویٰ، استغفار، شکرگزاری اور حلال کمائی — کو اختیار کرنا ہی درست اور معتبر طریقہ ہے۔
سورۂ یٰسین:
سورۂ یٰسین کے فضائل کے بارے میں جو کچھ روایات بیان کی جاتی ہیں، بہت سے مستند علماء نے انہیں کمزور (ضعیف) یا من گھڑت (موضوع) قرار دیا ہے۔ خاص طور پر یہ بات کہ: "من قرأ يس صدر النهار، قضيت حوائجه”۔ ترجمہ “جو شخص صبح کے وقت سورۂ یٰسین پڑھے، اس کی تمام حاجتیں پوری کر دی جاتی ہیں” یہ روایت امام دارمی نے نقل کی ہے، لیکن اسے حضرت عطا نے اس انداز میں بیان کیا ہے کہ “مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا…”۔ چونکہ عطا صحابی نہیں تھے اور انہوں نے یہ حدیث براہِ راست نبی ﷺ سے نہیں سنی، اس لیے اس روایت کی سند مکمل نہیں ہے۔ بحوالہ: اسلام ویب: 31391 اور 9909
سورۃ البقرہ:
سورۃ البقرہ کی تلاوت سے گھر میں برکت اور شیطانی اثرات سے حفاظت ہوتی ہے، جو رزق کی برکت میں معاون ہے۔