اسلام میں میت کے حقوق میں سے ایک اہم حق نماز جنازہ ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ اسے نماز جنازہ کا طریقہ، نماز جنازہ کی نیت اور مکمل نماز جنازہ کا صحیح علم ہو۔ اسی طرح یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ جنازے کے شرائط کتنے ہیں، نماز جنازہ کے کتنے ارکان ہیں اور نماز جنازہ کی کتنی سنتیں ہیں۔
اس مضمون میں ہم نماز جنازہ کا طریقہ، نماز جنازہ کی نیت، مکمل نماز جنازہ، جنازے کے شرائط، نماز جنازہ کے ارکان، نماز جنازہ کی سنتیں، عورت کی نماز جنازہ کا طریقہ، عورت کی نماز جنازہ کی دعا، چھوٹے بچے کی نماز جنازہ کا طریقہ اور نماز جنازہ کی فضیلت کو مختصر اور آسان انداز میں بیان کریں گے۔
عنوان کے عناصر
Toggleنماز جنازہ کی نیت:
نماز جنازہ کی نیت دل سے کی جاتی ہے۔ زبان سے الفاظ کہنا صحیح نہیں ہے، نمازِ جنازہ نیت کے بغیر صحیح نہیں ہوتی۔ اس پر چاروں فقہی مذاہب (حنفی (1)، مالکی (2)، شافعی (3) ، حنبلی(4)) کا اتفاق ہے۔
دلیل: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "إنَّما الأعمالُ بالنيَّاتِ” یعنی اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔” (5)
وجہِ استدلال: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر عبادت کی صحت کے لیے نیت ضروری ہے۔ چونکہ نمازِ جنازہ بھی ایک عبادت ہے، اس لیے دیگر نمازوں کی طرح اس میں بھی نیت شرط ہے۔ (6)
میت کو متعین کرنے کا حکم :
جنازہ کی نماز میں میت کو نام لے کر متعین کرنا ضروری نہیں۔ یہ جمہور علماء (مالکیہ، شافعیہ، حنابلہ) کا موقف ہے؛ کیونکہ نمازِ جنازہ کا مقصد میت کے لیے دعا کرنا ہے، جو تعین کے بغیر بھی حاصل ہو جاتا ہے۔ (7)
نماز جنازہ کا مسنون طریقہ:
نمازِ جنازہ ایک اہم عبادت ہے جس کے ذریعے مسلمان اپنے فوت شدہ بھائی یا بہن کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کرتے ہیں۔ یہ نماز رکوع اور سجدہ کے بغیر ادا کی جاتی ہے اور اس میں چار تکبیریں ہوتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے جس طرح نمازِ جنازہ ادا فرمائی، اس کا مختصر اور مسنون طریقہ درج ذیل ہے:
سنت یہ ہے کہ امام مرد کی میت کے سر کے پاس اور عورت کی میت کے درمیان کھڑا ہو۔اگر کئی جنازے ہوں تو ترتیب یہ ہوگی: پہلے مرد، پھر لڑکا، پھر عورت، پھر لڑکی۔ امام سب کی ایک ہی نمازِ جنازہ پڑھائے گا تاکہ جنازہ میں جلدی ہو سکے، اور میتوں کو سنت کے مطابق ترتیب سے رکھا جائے گا۔ مزید دیکھیں
1۔ پہلی تکبیر
امام "اللہ اکبر” کہے گا اور مقتدی بھی تکبیر کہیں گے۔ پھر سورۂ فاتحہ پڑھی جائے گی۔
2۔ دوسری تکبیر
اس کے بعد دوبارہ "اللہ اکبر” کہا جائے گا اور نبی کریم ﷺ پر درود پڑھا جائے گا، جیسے نماز میں درودِ ابراہیمی پڑھا جاتا ہے۔
3۔ تیسری تکبیر
پھر تیسری مرتبہ "اللہ اکبر” کہی جائے گی اور میت کے لیے دعا کی جائے گی۔ ان دعاؤں میں سے ایک مسنون دعا یہ ہے: اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَاُنْثَانَا، اَللّٰهُمَّ مَنْ اَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَاَحْيِهِ عَلَى الْاِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْاِيْمَانِ۔ پھر میت کے لیے خصوصی دعا کی جاتی ہے۔
اگر میت مرد ہو تو یہ دعا پڑھی جائے:
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَاَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْاَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اَللّٰهُمَّ أَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ، وَاَهْلًا خَيْرًا مِنْ اَهْلِهِ، وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ، اَللّٰهُمَّ أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ، وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَافْسَحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ، اَللّٰهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ، وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ۔
اگر میت عورت ہو تو دعا میں الفاظ یوں بدلیں: اللهم اغفر لها وارحمها… (اے اللہ! اسے بخش دے اور اس پر رحم فرما)
اگر کئی میتیں ہوں:اللهم اغفر لهم… وارحمهم (اے اللہ! ان سب کو بخش دے اور ان پر رحم فرما)
4۔ چوتھی تکبیر
پھر چوتھی تکبیر کہی جائے گی اور اس کے بعد سلام پھیرا جائے گا، عام طور پر دائیں طرف سلام کیا جاتا ہے۔
نماز جنازہ کے شرائط
نمازِ جنازہ ادا کرنے کے لیے چند بنیادی شرطیں ہوتی ہیں۔ اگر یہ شرطیں پوری نہ ہوں تو نماز جنازہ صحیح نہیں ہوتی۔ ذیل میں اہم شرطیں مختصر انداز میں بیان کی جا رہی ہیں۔
1۔ میت کا مسلمان ہونا
نماز جنازہ صرف مسلمان میت کے لیے پڑھی جاتی ہے۔ کافر پر نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
“اور ان میں سے جو مر جائے اس پر کبھی نماز نہ پڑھیں۔” (التوبہ: 84)
2۔ میت کا حاضر ہونا
نماز جنازہ کے لیے میت کا موجود ہونا ضروری ہے۔ غائب میت پر نماز جنازہ پڑھنا عام طور پر جائز نہیں۔ نبی کریم ﷺ کا نجاشی پر نماز پڑھنا آپ ﷺ کے ساتھ خاص قرار دیا گیا ہے، اگرچہ بعض فقہاء اس کے جواز کے قائل ہیں۔
3۔ میت کا غسل دیا جانا
نماز جنازہ سے پہلے میت کو غسل دینا یا ضرورت کے وقت تیمم کرانا ضروری ہے۔ بغیر غسل یا تیمم کے جنازہ کی نماز درست نہیں۔
4۔ میت کا نمازیوں کے سامنے ہونا
نماز جنازہ کے وقت میت کو نمازیوں کے آگے رکھا جاتا ہے۔ اگر میت پیچھے ہو تو اکثر فقہاء کے نزدیک نماز درست نہیں ہوتی۔
5۔ نماز کے وقت میت کا زمین پر ہونا
نماز جنازہ کے وقت میت کو زمین پر رکھا جائے۔ بعض فقہاء کے نزدیک اسے کندھوں پر یا سواری پر رکھ کر نماز پڑھنا درست نہیں۔
6۔ شہید کا حکم
بعض فقہاء کے نزدیک شہید کو غسل نہیں دیا جاتا اور اس پر نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی جاتی، جبکہ احناف کے نزدیک شہید پر نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے۔
7۔ میت کے جسم کا موجود ہونا
میت کے جسم کا وہ حصہ موجود ہونا چاہیے جس پر غسل فرض ہوتا ہے، تاکہ اس پر نماز جنازہ ادا کی جا سکے۔
8۔ سقط (نامکمل بچہ) کا حکم
اگر ایسا بچہ ہو جسے غسل دینا واجب ہو تو اس پر بھی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔
نماز جنازہ پڑھنے والے کی شرطیں
نماز جنازہ پڑھنے والے کے لیے وہی شرطیں ہیں جو عام نماز کے لیے ہوتی ہیں، جیسے:
- نیت کرنا
- باوضو ہونا
- قبلہ رخ ہونا
- سترِ عورت کا ڈھانپنا (9)
نماز جنازہ کے ارکان:
نمازِ جنازہ کے بعض ارکان ایسے ہیں جن کے بغیر یہ نماز صحیح نہیں ہوتی۔ اگر ان میں سے کوئی رکن فوت ہو جائے تو نمازِ جنازہ باطل ہو جاتی ہے اور اس کا اعادہ کرنا لازم ہوتا ہے۔ فقہاءِ اسلام نے ان ارکان کو درج ذیل ترتیب سے بیان کیا ہے:
(1) نیت:
نمازِ جنازہ کا پہلا رکن نیت ہے۔ مالکیہ اور شافعیہ کے نزدیک نیت نمازِ جنازہ کا رکن ہے، جب کہ احناف اور حنابلہ کے نزدیک یہ شرط ہے، رکن نہیں۔ تاہم اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ نیت کے بغیر نمازِ جنازہ ادا نہیں ہوتی، کیونکہ نیت ہر عبادت کی بنیاد ہے اور دیگر نمازوں کی طرح یہاں بھی اس کا ہونا ضروری ہے۔
(2) تکبیریں:
نمازِ جنازہ میں چار تکبیریں کہنا ضروری ہے، جن میں پہلی تکبیر تکبیرِ تحریمہ ہے۔ ہر تکبیر گویا نماز کے ایک مستقل جز کی حیثیت رکھتی ہے۔ جمہور فقہاء کے نزدیک یہ چاروں تکبیریں نمازِ جنازہ کے ارکان میں شامل ہیں، لہٰذا اگر ان میں سے کوئی تکبیر چھوڑ دی جائے تو نماز درست نہیں ہوتی۔
(3) قیام:
نمازِ جنازہ میں ابتدا سے انتہا تک کھڑے ہو کر نماز ادا کرنا ضروری ہے، بشرطیکہ آدمی اس پر قادر ہو۔ اگر کوئی شخص بلا عذر بیٹھ کر نمازِ جنازہ ادا کرے تو اس کی نماز صحیح نہیں ہوگی۔ اس مسئلہ پر فقہاء کا اتفاق ہے۔
(4) میت کے لیے دعا:
نمازِ جنازہ کا بنیادی مقصد میت کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کرنا ہے، اس لیے میت کے حق میں دعا کرنا بھی اس نماز کا ایک اہم رکن ہے۔ دعا کے الفاظ اور اس کے مقام کی تفصیل فقہی مذاہب کی کتابوں میں مذکور ہے، جن میں مختلف مسنون دعائیں بیان کی گئی ہیں۔
(5) سلام:
چوتھی تکبیر کے بعد سلام پھیرنا جمہور فقہاء (شافعیہ، مالکیہ اور حنابلہ) کے نزدیک نمازِ جنازہ کا رکن ہے۔ اس کے برخلاف فقہائے احناف کے نزدیک سلام واجب ہے، جیسا کہ دیگر نمازوں میں ہوتا ہے، اس لیے احناف کے نزدیک اگر سلام ترک ہو جائے تو نماز باطل نہیں ہوتی، البتہ اس کا ترک خلافِ واجب ہے۔
(6) درودِ شریف:
دوسری تکبیر کے بعد رسولِ اکرم ﷺ پر درود پڑھنا شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک نمازِ جنازہ کا رکن ہے۔ جبکہ فقہائے احناف اور مالکیہ کے نزدیک درود پڑھنا مسنون یا واجب درجے میں آتا ہے۔
(7) سورۂ فاتحہ کی قراءت:
نمازِ جنازہ میں سورۂ فاتحہ پڑھنے کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک فاتحہ کی قراءت ضروری ہے، جبکہ احناف کے نزدیک نمازِ جنازہ چونکہ دراصل دعا ہے، اس لیے اس میں قراءتِ فاتحہ کو لازم قرار نہیں دیا گیا۔ (8)
نماز جنازہ کی سنتیں
نمازِ جنازہ کی بعض سنتیں ایسی ہیں جن کا ثبوت احادیثِ نبویہ اور آثارِ صحابہ سے ملتا ہے۔ فقہاءِ امت نے ان کو بیان کیا ہے تاکہ نمازِ جنازہ کو زیادہ کامل اور سنت کے مطابق ادا کیا جا سکے۔ اہم سنتیں درج ذیل ہیں:
1۔ پہلی تکبیر کے وقت ہاتھ اٹھانا
فقہاءِ امت کے نزدیک نمازِ جنازہ کی پہلی تکبیر کے وقت ہاتھ اٹھانا سنت ہے۔ اس پر اہلِ علم کا اتفاق منقول ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ سے اس کا ثبوت احادیث میں ملتا ہے۔
2۔ ہر تکبیر کے ساتھ ہاتھ اٹھانا
بعض فقہاء، خصوصاً شافعیہ اور حنابلہ، کے نزدیک ہر تکبیر کے ساتھ ہاتھ اٹھانا مستحب ہے۔ جبکہ احناف کے نزدیک صرف پہلی تکبیر کے وقت ہاتھ اٹھایا جاتا ہے۔
3۔ پہلی تکبیر کے بعد سورۂ فاتحہ پڑھنا
اکثر فقہاء کے نزدیک پہلی تکبیر کے بعد سورۂ فاتحہ پڑھنا مشروع ہے، کیونکہ یہ نماز کا اہم حصہ ہے اور بعض صحابہ سے اس کا عمل منقول ہے
4۔ قراءت اور دعا کو آہستہ پڑھنا
نمازِ جنازہ میں قراءت، درود اور میت کے لیے دعا آہستہ آواز میں پڑھنا سنت ہے، تاکہ نماز میں خشوع اور وقار باقی رہے۔
5۔ امام کا تکبیر بلند آواز سے کہنا
امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ تکبیر بلند آواز سے کہے تاکہ مقتدی اس کی اقتداء کر سکیں، جبکہ مقتدی تکبیر اور دیگر اذکار آہستہ آواز میں ادا کرتے ہیں۔
6۔ سلام کا اعلان
جمہور فقہاء کے نزدیک امام سلام بھی بلند آواز سے کہتا ہے، جبکہ مقتدی اسے آہستہ کہتے ہیں۔
7۔ تین صفوں کا اہتمام
نمازِ جنازہ میں تین صفیں بنانا مستحب ہے۔ اس بارے میں حدیث وارد ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جس میت پر مسلمانوں کی تین صفیں نماز جنازہ ادا کریں، اس کے لیے مغفرت ہو جاتی ہے۔”(10)
عورت کی نماز جنازہ کا طریقہ:
- امام کے کھڑے ہونے کی جگہ: مرد کے جنازے میں امام سر کے پاس کھڑا ہوتا ہے۔ عورت کے جنازے میں امام درمیان (کمر کے قریب) کھڑا ہوتا ہے۔
- دعا کے الفاظ: مرد کے لیے دعا میں له (اسے) کہا جاتا ہے۔ عورت کے لیے دعا میں لها (اسے) کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اس طرح کہے اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهَا وَارْحَمْهَا وَعَافِهَا وَاعْفُ عَنْهَا،
وَأَكْرِمْ نُزُلَهَا وَوَسِّعْ مُدْخَلَهَا،
وَاغْسِلْهَا بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ،
وَنَقِّهَا مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ،
وَأَبْدِلْهَا دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهَا،
وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهَا،
وَأَدْخِلْهَا الْجَنَّةَ،
وَأَعِذْهَا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ۔ - صف بندی:طریقۂ نماز، تکبیریں، درود اور دعائیں دونوں میں ایک ہی ہوتی ہیں۔
چھوٹے بچے کی نماز جنازہ کا طریقہ
عام اہلِ علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جو بچہ وفات پا جائے اسے غسل دیا جائے گا اور اس کی نمازِ جنازہ بھی ادا کی جائے گی۔
امام ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
اسی طرح امام ابن المنذر رحمہ اللہ نے بھی اس بات پر علماء کا اجماع نقل کیا ہے کہ بچے کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی۔ (12)
بچے کی نمازِ جنازہ کے احکام اصولی طور پر وہی ہیں جو کسی بالغ مسلمان کی نمازِ جنازہ کے ہوتے ہیں۔ البتہ ایک فرق یہ ہے کہ بچے کے لیے مغفرت کی دعا نہیں کی جاتی؛ کیونکہ نابالغ بچے پر گناہ لکھا ہی نہیں جاتا۔ تاہم اس موقع پر اس کے والدین کے لیے رحمت، مغفرت اور صبر کی دعا کرنا مستحب ہے؛ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
"بچے کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی اور اس کے والدین کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کی جائے گی۔” (13)
بچے کی نمازِ جنازہ میں کون سی دعا پڑھی جائے؟
شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ کے فتاویٰ میں آیا ہے کہ بچے کی نمازِ جنازہ میں بھی وہی دعا پڑھی جاتی ہے جو بڑے کے جنازہ میں پڑھی جاتی ہے، البتہ دعا کرتے وقت بچے کے والدین کے لیے خصوصی دعا کرنا بہتر ہے۔
دعا کے الفاظ یہ ہیں: اللهم اجعله ذخرا لوالديه، وفرطا وشفيعا مجابا، اللهم أعظم به أجورهما، وثقل به موازينهما، وألحقه بصالح سلف المؤمنين، واجعله في كفالة إبراهيم عليه الصلاة والسلام، وقه برحمتك عذاب الجحيم.
ترجمہ:اے اللہ! اس بچے کو اس کے والدین کے لیے ذخیرہ بنا دے، اسے ان کے لیے پیش رو اور مقبول شفاعت کرنے والا بنا دے۔ اے اللہ! اس کے ذریعے ان دونوں کے اجر کو عظیم فرما، ان کے اعمال کے ترازو کو بھاری کر دے، اسے مؤمنوں کے نیک اسلاف کے ساتھ ملا دے، اسے ابراہیم علیہ السلام کی کفالت میں رکھ، اور اپنی رحمت کے ذریعے اسے جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:”بچے کی بھی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی اور اس کے والدین کے لیے دعا کی جائے گی۔” بحوالہ: مجموع فتاویٰ و رسائل ابن باز۔
نماز جنازہ کی دعا:
(1) حضرت عوف بن مالک اشجعیؓ سے روایت ہے:
وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو ایک جنازہ کی نماز پڑھاتے ہوئے یہ دعا فرماتے سنا:
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَاعْفُ عَنْهُ، وَعَافِهِ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَاغْسِلْهُ بِمَاءٍ وَثَلْجٍ وَبَرَدٍ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ، وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ، وَقِهِ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ۔ترجمہ:اے اللہ! اسے بخش دے، اس پر رحم فرما، اس سے درگزر فرما، اسے عافیت عطا فرما، اس کی مہمانی کو عزت والا بنا، اس کی قبر کو کشادہ فرما، اسے پانی، برف اور اولوں سے دھو دے، اور اسے گناہوں سے اس طرح پاک کر دے جیسے سفید کپڑا میل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اسے اس کے گھر سے بہتر گھر عطا فرما، اس کے اہل سے بہتر اہل عطا فرما، اس کی بیوی سے بہتر بیوی عطا فرما، اور اسے قبر کے فتنے اور جہنم کے عذاب سے بچا۔
حضرت عوفؓ کہتے ہیں:میں نے اس دعا کو سن کر تمنا کی کہ کاش وہ میت میں ہوتا تاکہ رسول اللہ ﷺ کی یہ دعا مجھے نصیب ہوتی۔
(2) حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے:
رسول اللہ ﷺ جب کسی جنازے کی نماز پڑھتے تو یہ دعا فرماتے:اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، اَللّٰهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الإِيمَانِ۔ترجمہ:اے اللہ! ہمارے زندہ اور مردہ سب کو بخش دے، ہمارے موجود اور غائب سب کو، ہمارے چھوٹے اور بڑے سب کو، اور ہمارے مردوں اور عورتوں سب کو۔
اے اللہ! ہم میں سے جس کو تو زندہ رکھے اسے اسلام پر زندہ رکھ، اور جس کو تو وفات دے اسے ایمان پر وفات دے۔
(3) حضرت جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ:رسول اللہ ﷺ جب جنازہ کی نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا فرماتے:اَللّٰهُمَّ عَبْدُكَ وَابْنُ أَمَتِكَ احْتَاجَ إِلَى رَحْمَتِكَ، وَأَنْتَ غَنِيٌّ عَنْ عَذَابِهِ، إِنْ كَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِي إِحْسَانِهِ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ۔
ترجمہ:
اے اللہ! یہ تیرا بندہ اور تیری بندی کا بیٹا ہے، یہ تیری رحمت کا محتاج ہے اور تو اس کے عذاب سے بے نیاز ہے۔ اگر یہ نیک تھا تو اس کی نیکیوں میں اضافہ فرما، اور اگر اس سے خطا ہوئی ہے تو اس سے درگزر فرما۔
نماز جنازہ کی فضیلت
احادیث میں نماز جنازہ کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "مَن شَهِدَ الجَنازَةَ حتَّى يُصَلِّيَ، فَلَهُ قِيراطٌ، ومَن شَهِدَ حتَّى تُدْفَنَ كانَ له قِيراطانِ، قيلَ: وما القِيراطانِ؟ قالَ: مِثْلُ الجَبَلَيْنِ العَظِيمَيْنِ.” (11) اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو یہ تربیت دی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی وفات کے بعد اس کے جنازے میں شریک ہوں، اس کے لیے نماز جنازہ ادا کریں اور اسے قبر تک پہنچانے میں حصہ لیں۔ اس عمل سے نہ صرف میت کے حق کی ادائیگی ہوتی ہے بلکہ زندہ لوگوں میں اخوت، ہمدردی اور آخرت کی یاد بھی پیدا ہوتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے بتایا کہ جو شخص جنازے میں حاضر ہو کر صرف نماز جنازہ تک رہے، اسے ایک قیراط ثواب ملتا ہے، اور جو شخص جنازے کے ساتھ قبر تک جائے اور دفن ہونے تک وہاں ٹھہرا رہے، اسے دو قیراط ثواب ملتے ہیں۔ یہ قیراط اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑا اجر ہے، حتیٰ کہ حدیث میں آیا ہے کہ ان میں سے چھوٹا بھی پہاڑ اُحد کے برابر ہوگا۔
اس طرح اس حدیث کے ذریعے مسلمانوں کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ وہ جنازوں میں شرکت کو معمول بنائیں، موت کو یاد رکھیں اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں، کیونکہ اس میں بہت بڑا اجر اور عظیم تربیت پوشیدہ ہے۔
حوالہ جات:
(1) ابن عابدین، حاشیۃ ابن عابدین، ج 1، ص 437۔
مزید دیکھیے: ملا خسرو، درر الحكام شرح غرر الأحكام، ج 1، ص 63۔
(2) المواق، التاج والإكليل، ج 2، ص 213؛ نیز دیکھیں: الخرشي، شرح مختصر خليل، ج 2، ص 117۔
(3) تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: النووي، المجموع شرح المهذب، ج 5، ص 229؛ اور مزید وضاحت کے لیے الشربيني، مغني المحتاج إلى معرفة معاني ألفاظ المنهاج، ج 1، ص 340۔
(4) تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: البهوتي، كشاف القناع عن متن الإقناع، ج 2، ص 113؛ اور مزید تحقیق کے لیے ابن قدامة، المغني، ج 2، ص 367۔
(5)اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے (حدیث: 1) اور الفاظ بھی انہی کے ہیں، جبکہ امام مسلم نے بھی اسے روایت کیا ہے (حدیث: 1907)۔
(6)العمراني، البيان في مذهب الإمام الشافعي، ج 3، ص 63۔
(7) الجوهري، الصحاح، ج 6، ص 2171؛ نیز دیکھیں: الفيومي، المصباح المنير، ج 2، ص 440۔
(8) كتاب الفقه على المذاهب الأربعة ، عبد الرحمن الجزیری ج1, ص474
(9) كتاب الفقه على المذاهب الأربعة ، عبد الرحمن الجزیری ج1, ص475۔
(10) اس حدیث کو ابو داؤد (3166)، ترمذی (1028) — اور الفاظ انہی کے ہیں — اور ابن ماجہ (1490) نے روایت کیا ہے۔
امام ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ اسی طرح امام نووی نے اپنی کتاب المجموع (5/211) میں اور علامہ البانی نے صحیح سنن الترمذی (1028) میں اسے حسن کہا ہے۔
جبکہ امام حاکم نے المستدرک (1359) میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا اور فرمایا کہ یہ امام مسلم کی شرط کے مطابق ہے۔ اسی طرح ابن عربی نے عارضة الأحوذی (2/401) میں بھی اس کی تصحیح کی ہے۔
(11) صحیح بخاری: 1325۔
(12)دیکھیے: المغنی (3/458)۔
(13)اسے ابو داؤد نے اپنی کتاب سنن ابی داؤد میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔(حوالہ: صفحہ یا حدیث نمبر 3180) اور یہ حدیث امام بخاری کی شرط کے مطابق صحیح ہے۔