مستند اسلامی رہنمائی

اسلام میں عورت کا کفن: پانچ کپڑے کون سے ہوتے ہیں؟ مکمل وضاحت

اسلام میں میت کو غسل دینے کے بعد کفن دینا ایک اہم دینی عمل ہے۔ اسی لیے بہت سے لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ عورت کا کفن کتنے کپڑوں پر مشتمل ہوتا ہے اور اس کی صحیح ترتیب کیا ہے۔ فقہاءِ اسلام نے احادیث اور آثار کی روشنی میں اس مسئلے پر گفتگو کی ہے۔ علماء کے درمیان عورت کے کفن کے بارے میں دو قول ملتے ہیں؛  ذیل میں عورت کے کفن کے کپڑوں کی تعداد اور ترتیب کو مختصر اور آسان انداز میں بیان کیا جا رہا ہے۔

الف: جمہور فقہاء؛

جمہور فقہاء؛ یعنی احناف، شوافع، مالکیہ، حنابلہ اور ظاہریہ اس بات پر متفق ہیں کہ عورت کو پانچ کپڑوں میں کفن دینا مستحب ہے۔ (1)
امام ابنِ منذرؒ لکھتے ہیں: “جن اہلِ علم کے اقوال ہم تک محفوظ اور منقول ہیں، ان کی اکثریت اس بات کی قائل ہے کہ عورت کو پانچ کپڑوں میں کفن دیا جائے۔”
دليل: سنن ابو داؤد ، کتاب الجنائز، فی کفن المرأۃ۔ کی روایت "حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي نُوحُ بْنُ حَكِيمٍ الثَّقَفِيُّ ، وَكَانَ قَارِئًا لِلْقُرْآنِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ يُقَالُ لَهُ : دَاوُدُ ، قَدْ وَلَّدَتْهُ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ لَيْلَى بِنْتَ قَانِفٍ الثَّقَفِيَّةَ قَالَتْ : كُنْتُ فِيمَنْ غَسَّلَ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ وَفَاتِهَا، فَكَانَ أَوَّلَ مَا أَعْطَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِقَاءُ، ثُمَّ الدِّرْعُ، ثُمَّ الْخِمَارُ، ثُمَّ الْمِلْحَفَةُ، ثُمَّ أُدْرِجَتْ بَعْدُ فِي الثَّوْبِ الْآخِرِ. قَالَتْ : وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عِنْدَ الْبَابِ، مَعَهُ كَفَنُهَا، يُنَاوِلُنَاهَا ثَوْبًا ثَوْبًا.
ترجمہ:امام ابو داؤد بیان کرتے ہیں کہ ہم سے احمد بن حنبل نے روایت بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے والد نے روایت کیا، وہ ابن اسحاق سے روایت کرتے ہیں، ابن اسحاق کہتے ہیں کہ مجھ سے نوح بن حکیم ثقفی نے بیان کیا جو قرآن کے قاری تھے۔ انہوں نے بنی عروہ بن مسعود کے ایک شخص سے روایت کیا جسے داؤد کہا جاتا تھا اور جسے ام حبیبہ بنت ابی سفیان (جو نبی کریم ﷺ کی زوجہ تھیں) نے جنا تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ لیلیٰ بنت قانف ثقفیہ نے کہا: میں ان عورتوں میں شامل تھی جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی ام کلثوم بنت رسول اللہ ﷺ کو ان کی وفات کے وقت غسل دیا تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے سب سے پہلے ہمیں:

  • ازار (تہبند) دیا،
  • پھر قمیص (کرتا)،
  • پھر خمار (اوڑھنی)،
  • پھر ملحفہ (چادر)،
  • اور اس کے بعد انہیں ایک اور کپڑے

میں لپیٹ دیا گیا۔

لیلیٰ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ دروازے کے پاس تشریف فرما تھے اور ان کے پاس ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا کفن تھا، اور آپ ﷺ ہمیں ایک ایک کر کے کپڑا عطا فرما رہے تھے

اس حدیث کا حکم :

  • امام نوویؒ: اس حدیث کو ابو داود نے روایت کیا ہے، اور اس کی سند حسن ہے، سوائے ایک راوی کے جو ایسا آدمی ہے جس کا حال معلوم نہیں۔ تاہم ابو داود نے اسے روایت کیا ہے اور اسے ضعیف قرار نہیں دیا۔ (المجموع 5/205)
  • علامہ البانیؒ: یہ حدیث ضعیف ہے۔(ضعیف الأحکام، ص 65، مطبوعہ: المکتب الاسلامی)
  • نتیجہ: حدیث کی سند حسن ہے اور استدلال کے لیے قابلِ قبول ہے۔ (عون المعبود)

جمہور علماء کے نزدیک عورت کے کفن کے پانچ کپڑوں کی تفصیل اس طرح بیان کی گئی ہے۔ ان پانچوں کو ترتیب کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے:

(1) اِزار:

یہ وہ کپڑا ہوتا ہے جو ناف سے لے کر پاؤں تک جسم کے نچلے حصے کو ڈھانپنے کے لیے باندھا جاتا ہے۔ اسے عام زبان میں تہبند بھی کہا جاتا ہے۔

(2) قمیص:

یہ ایک ڈھیلا لباس ہوتا ہے جو کندھوں سے لے کر پاؤں تک جسم کو ڈھانپتا ہے۔ اسے بغیر آستین کے بھی بنایا جاتا ہے تاکہ میت کو آسانی سے پہنایا جا سکے۔

(3) خِمار:

یہ سر اور بالوں کو ڈھانپنے کے لیے اوڑھنی یا دوپٹہ ہوتا ہے، جو عورت کے سر پر رکھا جاتا ہے تاکہ اس کے سر اور بال پردہ میں رہیں۔

(4) پہلی لِفافہ:

یہ ایک بڑی چادر ہوتی ہے جس میں میت کو لپیٹا جاتا ہے۔ اس کا مقصد پورے جسم کو اچھی طرح ڈھانپنا ہوتا ہے۔

(5) دوسری لِفافہ:

یہ دوسری بڑی چادر ہوتی ہے جو پہلی لفافہ کے اوپر لپیٹی جاتی ہے، تاکہ کفن مکمل طور پر مضبوط اور مکمل پردہ کے ساتھ ہو جائے۔ اسی ترتیب اور تفصیل کو جمہور فقہاء یعنی مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ نے اختیار کیا ہے۔(2)

عورت کو کفن کیسے پہنایا جائے ؟

عورت کے کفن کی ترتیب : اس طرح ہونی چاہیے کہ:

  1. سب سے پہلے اس کی سترگاہ اور اس کے اطراف کو ایک ازار کے ذریعے ڈھانپا جائے،
  2. اس کے بعد پورے جسم پر قمیص پہنائی جائے،
  3. پھر سر اور اس کے گرد و نواح کو قناع (یعنی سر ڈھانپنے والے کپڑے) سے مستور کیا جائے،
  4. اور آخر میں اسے دو بڑی چادروں میں

اچھی طرح لپیٹ دیا جائے۔ (3)

ب: عطاءؒ اور شیخ محمد بن صالح عثیمین:

عطاءؒ فرماتے ہیں کہ عورت کو تین کپڑوں میں کفنایا جاتا ہے۔ (4)


شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ نے الشرح الممتع میں اس مسئلے کو نہایت اصولی انداز میں بیان کیا ہے۔ 
“عورت کے پانچ کپڑوں میں کفنائے جانے کے بارے میں ایک مرفوع روایت ذکر کی جاتی ہے، لیکن اس کی سند میں کلام ہے، کیونکہ اس میں ایک مجہول راوی موجود ہے۔ اسی بنا پر بعض اہلِ علم نے یہ رائے اختیار کی ہے کہ عورت کو بھی اسی طرح کفن دیا جائے جس طرح مرد کو دیا جاتا ہے، یعنی تین کپڑوں میں جو ایک دوسرے پر لپیٹ دیے جاتے ہیں۔
اگر مذکورہ روایت صحیح ثابت نہ ہو تو یہی موقف زیادہ قوی معلوم ہوتا ہے؛ اس لیے کہ شریعت کا عمومی اصول یہ ہے کہ مرد و عورت احکامِ شرعیہ میں برابر ہیں، الا یہ کہ کسی حکم کے ساتھ کسی ایک کی تخصیص پر واضح دلیل موجود ہو۔ جہاں دلیل تخصیص پر دلالت کرے وہاں اسی کے مطابق حکم دیا جائے گا، اور جہاں ایسی کوئی دلیل نہ ہو وہاں اصل مساوات ہی برقرار رہے گی۔
لہٰذا اگر عورت کے پانچ کپڑوں میں کفن دیے جانے والی روایت ثابت ہو جائے تو اسی کے مطابق عمل کیا جائے گا، اور اگر وہ ثابت نہ ہو تو اصل قاعدہ یہی ہے کہ کفن کے مسئلے میں بھی مرد و عورت کا حکم ایک ہی ہوگا۔” (5)

ج: ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

اگر میت کو ایک ہی ایسے کپڑے میں کفن دیا جائے جو پورے بدن کو ڈھانپ لے تو یہ بھی جائز ہے، خواہ میت مرد ہو یا عورت۔ اس معاملے میں شریعت نے وسعت رکھی ہے۔(6)

حوالہ جات:

(1) مزید تفصیل کے لیے درج ذیل کتب ملاحظہ کریں: بدائع الصنائع (2/325)، مواهب الجلیل (2/266)، المجموع للنووی (5/161)، المغنی لابن قدامہ (3/390)، المحلی لابن حزم (5/120)۔
(2) اس بارے میں مزید دیکھیں: مواهب الجلیل (2/266)، المجموع (5/162)، المغنی (3/392)۔
(3) فتاویٰ اللجنۃ الدائمہ (جلد 3، ص 363)
(4)اس روایت کو امام عبدالرزاقؒ نے اپنی مشہور کتاب المصنف میں نقل کیا ہے (جلد 3، صفحہ 273)۔
(5) الشرح الممتع، 5/224)
(6) مجموع فتاوى ابن باز” (13/127)

Leave a Comment