مستند اسلامی رہنمائی

فوت شدہ نمازوں اور روزوں کی قضا کیسے کریں؟ مکمل رہنمائی (جب تعداد معلوم نہ ہو)

کچھ غافل لوگ زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے میں نمازیں اور روزے چھوڑ دیتے ہیں، اور بعد میں انہیں احساس ہوتا ہے کہ ان کے ذمے بہت سی عبادات باقی ہیں۔ اسے بعد میں اللہ کی توفیق سے اپنی غلطی کا شعور پیدا ہوتا ہے  ، لیکن سب سے بڑی مشکل یہ ہوتی ہے کہ انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کتنی نمازیں یا روزے قضا ہو چکے ہیں۔

سب سے پہلا قدم — سچی توبہ

توبہ کیوں ضروری ہے؟

نماز اور روزہ اسلام کے بنیادی ارکان ہیں، اس لیے ان میں کوتاہی پر توبہ کرنا ضروری ہے۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے "

﴿ فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا * إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ شَيْئًا ﴾ [مريم: 59، 60[.

“پھر اُن کے بعد ایسے نااہل اور بدعمل لوگ اُن کے جانشین بنے جنہوں نے نماز کو ضائع کر دیا اور اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے لگ گئے، پس وہ عنقریب گمراہی اور ہلاکت کے انجام سے دوچار ہوں گے۔ البتہ جس نے سچی توبہ کی، ایمان کو مضبوطی سے اختیار کیا اور نیک اعمال کیے، تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور اُن پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔”

توبہ کا درست طریقہ

قرآن و سنت کے دلائل سے ثابت ہے کہ توبہ واجب ہے اور اس میں جلدی کرنا ضروری ہے، اس پر ائمۂ اسلام کا اجماع بھی ہے۔ سچی توبہ کے لیے پانچ شرطیں لازم ہیں:

  • (1) خالصتاً اللہ کے لیے توبہ کرنا،
  • (2) گناہ کو فوراً چھوڑ دینا،
  • (3) اس پر دل سے نادم ہونا،
  • (4) آئندہ نہ کرنے کا پختہ عزم، اور
  • (5) موت کے وقت غرغرہ شروع ہونے سے پہلے توبہ کرنا۔

حقوق العباد کے معاملے میں ضروری ہے کہ آدمی حتیٰ الامکان لوگوں کے حقوق واپس کرے۔ اگر مالکان کا پتا نہ چل سکے تو وہ چیز یا اس کی قیمت صدقہ کر دے، اور بعد میں مالک مل جائے تو اسے اختیار دے دے۔ نیز کثرت سے نیک اعمال کرے، کیونکہ قیامت کے دن حقوق نیکیوں سے ادا کیے جا سکتے ہیں۔

فوت شدہ نمازوں کی قضا کا طریقہ

جب نمازوں کی تعداد معلوم نہ ہو

قضا نمازوں کو ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنی روزانہ کی پانچوں فرض نمازوں کے ساتھ اپنی طاقت کے مطابق مزید قضا نمازیں بھی پڑھتا رہے، خواہ دن کا وقت ہو یا رات کا، اور اسی معمول کو جاری رکھے یہاں تک کہ اسے یقین ہو جائے یا کم از کم غالب گمان ہو جائے کہ اس نے اپنی تمام نا معلوم فوت شدہ نمازیں ادا کر لی ہیں، چاہے اس میں ایک سال یا اس سے زیادہ مدت ہی کیوں نہ لگ جائے۔

ابن قدامہ اپنی مشہور کتاب المغنی میں فرماتے ہیں: إذَا كَثُرَت الْفَوَائِتُ عَلَيْهِ يَتَشَاغَلُ بِالْقَضَاءِ, مَا لَمْ يَلْحَقْهُ مَشَقَّةٌ فِي بَدَنِهِ أَوْ مَالِهِ, أَمَّا فِي بَدَنِهِ فَأَنْ يَضْعُفَ أَوْ يَخَافَ الْمَرَضَ, وَأَمَّا فِي الْمَالِ فَأَنْ يَنْقَطِعَ عَنْ التَّصَرُّفِ فِي مَالِهِ, بِحَيْثُ يَنْقَطِعُ عَنْ مَعَاشِهِ, أَوْ يُسْتَضَرُّ بِذَلِكَ.

اگر کسی شخص پر قضا نمازیں زیادہ ہو جائیں تو اسے چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ قضا نمازوں کی ادائیگی میں مشغول رہے، بشرطیکہ اس سے اسے جسمانی یا مالی مشقت نہ پہنچے۔

جسمانی مشقت یہ ہے کہ وہ اس قدر کمزور ہو جائے یا اسے بیماری کا خوف لاحق ہو جائے۔

مالی مشقت یہ ہے کہ وہ اپنے معاش اور ضروری کام کاج سے رک جائے، جس سے اس کی روزی متاثر ہو یا اسے نقصان پہنچے۔

اسی مفہوم کو امام احمد بن حنبل نے بھی صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔

فَإِنْ
لَمْ يَعْلَمْ قَدْرَ مَا عَلَيْهِ فَإِنَّهُ يُعِيدُ حَتَّى يَتَيَقَّنَ
بَرَاءَةَ ذِمَّتِهِ

اگر کسی شخص کو اپنی فوت شدہ نمازوں کی صحیح تعداد معلوم نہ ہو تو وہ مسلسل قضا پڑھتا رہے یہاں تک کہ اسے اپنے ذمہ کے بری ہونے کا اطمینان حاصل ہو جائے۔

امام احمدؒ ایک روایت میں فرماتے ہیں:  قَالَ أَحْمَدُ فِي رِوَايَةِ صَالِحٍ, فِي الرَّجُلِ يُضَيِّعُ الصَّلَاةَ: يُعِيدُ حَتَّى لَا يَشُكَّ أَنَّهُ قَدْ جَاءَ بِمَا قَدْ ضَيَّعَ.

“جو شخص نمازیں ضائع کر بیٹھا ہو، وہ اتنی قضا ادا کرے کہ اسے یہ شک نہ رہے کہ اس نے اپنی تمام فوت شدہ نمازیں پوری کر لی ہیں۔”

قضا نمازوں کی ادائیگی میں سنجیدگی، تسلسل اور اعتدال ضروری ہے—نہ اتنی سختی کہ جسم یا معاش متاثر ہو، اور نہ اتنی سستی کہ قضا باقی رہ جائے۔ فرض نمازوں کو ترجیح دی جائے، اور حتیٰ الامکان جلد از جلد اپنے ذمہ کو بری کرنے کی کوشش کی جائے۔

روزانہ قضا نماز پڑھنے کا بہترین طریقہ

  • ہر فرض نماز کے ساتھ 1 یا 2 قضا نماز پڑھیں
  • یا دن میں الگ وقت مقرر کریں
  • فجر، ظہر، عصر، مغرب، عشاء سب کی قضا شامل کریں

قضا کتنے عرصے تک کریں؟

پھر وہ اسی طرح (قضا نمازیں پڑھنے کا) سلسلہ جاری رکھے یہاں تک کہ اسے یقین ہو جائے، یا کم از کم غالب گمان ہو جائے کہ اس نے اپنی اُن تمام فوت شدہ نمازوں کی قضا ادا کر لی ہے جن کی تعداد اسے معلوم نہیں تھی۔( المغنی)

سنت اور نفل کا حکم

ایسے شخص کو بنیادی طور پر صرف فرض نمازوں کی قضا پر توجہ دینی چاہیے اور ان کے درمیان نوافل یا سنتوں میں مشغول نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ فرض نماز سب سے زیادہ اہم ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے "إإنَّ المشرِكينَ شغَلوا النَّبيَّ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ عن أربعِ صلَواتٍ يومَ الخندقِ فأمرَ بلالًا فأذَّنَ ثمَّ أقامَ فصلَّى الظُّهرَ ثمَّ أقامَ فصلَّى العصرَ ثمَّ أقامَ فصلَّى المغربَ ، ثمَّ أقامَ فصلَّى العِشاءَ "کہ نبی کریم ﷺ سے غزوۂ خندق کے دن چار نمازیں فوت ہو گئیں تو آپ ﷺ نے حضرت بلالؓ کو حکم دیا، انہوں نے اقامت کہی اور آپ ﷺ نے ترتیب سے ظہر، پھر عصر، پھر مغرب اور پھر عشاء کی نماز ادا فرمائی، اور ان کے درمیان سنتوں کا ذکر نہیں ملتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب قضا نمازیں زیادہ ہوں تو فرض کی ادائیگی کو مقدم رکھا جائے۔

البتہ اگر قضا نمازیں کم ہوں تو سنتِ مؤکدہ (خصوصاً رواتب) کی قضا بھی کی جا سکتی ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ سے ایک مرتبہ فجر کی نماز فوت ہو گئی تو آپ ﷺ نے پہلے اس کی سنت ادا فرمائی، پھر فرض نماز پڑھی۔

فوت شدہ روزوں کی قضا کا طریقہ

اگر روزوں کی تعداد معلوم نہ ہو

اگر فوت شدہ روزوں کی صحیح تعداد معلوم نہ ہو تو ان کی قضا اسی اصول کے مطابق کی جائے گی؛ اس لیے کہ یہ روزے ایسے فرض ہیں جو انسان کے ذمے لازم اور باقی ہو چکے ہیں۔ اور شریعت کا اصول یہ ہے کہ انسان کا ذمہ اس وقت تک بری نہیں ہوتا جب تک وہ ان فرائض کو یقینی طور پر ادا نہ کر لے۔

لہٰذا ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ اندازے اور احتیاط کے ساتھ روزے رکھتا رہے، یہاں تک کہ اسے پورا اطمینان حاصل ہو جائے کہ اس نے اپنے ذمے کے تمام روزے ادا کر لیے ہیں۔ اس معاملے میں “غالب گمان” (یعنی مضبوط اندازہ) کو بھی یقین کے قائم مقام مانا گیا ہے، یعنی جب انسان کو پختہ گمان ہو جائے کہ اب اس کے ذمہ کچھ باقی نہیں رہا تو یہی کافی سمجھا جائے گا۔

قضا روزے رکھنے کا آسان طریقہ

جس شخص کے ذمہ رمضان کے کچھ روزے باقی رہ گئے ہوں، اس پر لازم ہے کہ وہ ان کی قضا میں بلاوجہ تاخیر نہ کرے۔ اگر وہ بغیر کسی شرعی عذر کے قضا کو مؤخر کرتا رہا یہاں تک کہ اگلا رمضان آ گیا، تو وہ گناہگار ہوگا، اور اس پر دو چیزیں لازم ہوں گی:

  • (1) چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا، اور
  • (2) ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلانا (کفارہ/فدیہ)، جس کی مقدار ایک مد (تقریباً 750 گرام) فی دن ہے۔

البتہ اگر قضا میں تاخیر کسی عذر کی وجہ سے ہو، جیسے بیماری، تو اس کی تفصیل یہ ہے:

اگر بیماری عارضی ہو اور صحت یاب ہونے کی امید ہو، تو صحت ملنے کے بعد صرف قضا روزے رکھنا واجب ہے، اس پر نہ کوئی فدیہ ہے اور نہ کفارہ؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

“اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے” (البقرہ: 184)۔

اور اگر بیماری دائمی ہو اور صحت یاب ہونے کی امید نہ ہو، تو پھر اس پر قضا نہیں بلکہ صرف فدیہ لازم ہے، یعنی ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے۔

 

اسی طرح وہ بوڑھا شخص یا بوڑھی عورت جو بڑھاپے کی وجہ سے روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں، ان پر بھی قضا نہیں بلکہ صرف فدیہ واجب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

“اور جو لوگ (مشقت کے ساتھ) اس کی طاقت رکھتے ہوں، ان پر ایک مسکین کا کھانا بطور فدیہ ہے” (البقرہ: 184)۔

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” نزلت رخصة للشيخ الكبير، والمرأة الكبيرة لا يستطيعان الصيام، فيطعمان مكان كل يوم مسكيناً. رواه البخاري” کہ یہ آیت ایسے بوڑھے مرد اور عورت کے لیے رخصت کے طور پر نازل ہوئی جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے، کہ وہ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں۔ (روایت: بخاری)

عملی منصوبہ

نماز کے لیے

  • روزانہ 5–10 قضا نمازیں
  • یا ہر فرض کے ساتھ 1 قضا

روزوں کے لیے

  • ہفتے میں 2–3 روزے
  • یا ہر مہینے مخصوص دن

خلاصہ:

فوت شدہ نمازوں اور روزوں کی قضا ایک سنجیدہ دینی ذمہ داری ہے، لیکن اسلام نے اسے آسان بنایا ہے۔ اگر آپ سچی توبہ کے ساتھ ایک منظم پلان اپنائیں تو آہستہ آہستہ آپ اپنی تمام عبادات مکمل کر سکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ آج ہی آغاز کریں۔

FAQ (Frequently Asked Questions)

سوال 1: قضا نماز کیسے ادا کریں؟

جواب: فرض نماز کی نیت سے قضا ادا کریں، اور اندازے کے مطابق تعداد پوری کریں۔

 

سوال 2: کیا قضا نماز کسی بھی وقت پڑھ سکتے ہیں؟

جواب: جی ہاں، عام طور پر کسی بھی وقت پڑھ سکتے ہیں (مکروہ اوقات کے علاوہ)۔

 

سوال 3: قضا روزے کب رکھ سکتے ہیں؟

جواب: رمضان کے علاوہ سال کے کسی بھی وقت (سوائے عید کے دنوں کے)۔

 

سوال 4: کیا ترتیب ضروری ہے؟

جواب: اگر قضا زیادہ ہو تو ترتیب ضروری نہیں۔

 

سوال 5: اگر سستی ہو رہی ہو تو کیا کریں؟

جواب: کم مقدار سے شروع کریں لیکن تسلسل برقرار رکھیں۔

Leave a Comment