اسلام میں عقیدۂ تقدیر نہایت اہم عقیدہ ہے۔ ایک مسلمان کے ایمان کا حصہ یہ ہے کہ وہ اس بات پر یقین رکھے کہ کائنات میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے علم اور مشیت سے ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ایمان کے بنیادی ارکان بیان کرتے ہوئے تقدیر پر ایمان کو بھی شامل فرمایا۔ بلکہ تقدیر پر ایمان چھٹا رکن ہے۔ اسی لیے عقیدۂ تقدیر کو سمجھے بغیر ایمان کی تکمیل ممکن نہیں۔
آج کے دور میں بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تقدیر کیا ہے؟ کیا انسان مجبور ہے یا اسے اختیار بھی حاصل ہے؟ اور تقدیر پر ایمان رکھنے کا صحیح مفہوم کیا ہے؟ اس مضمون میں ان سوالات کا آسان انداز میں جواب پیش کیا جائے گا۔
عنوان کے عناصر
Toggleتقدیر کا لغوی معنی:
قدر کا لغوی معنی یہ ہے "ترتيب الشيء ليكون على وَجْهٍ ما””، کہ کسی چیز کو ایک خاص انداز اور ترتیب کے ساتھ طے کرنا۔ جیسے کہا جاتا ہے:”قَدَّرْتُ أن يكون الأمر كذا وكذا، إذا رَتَّبْتََ أن يكون الأمر على هذا المنوال”؛ میں نے اس کام کو اس طرح ہونے کا اندازہ یا ترتیب کیا۔ اس طرح لغوی معنی میں قدر کے اندر چند باتیں شامل ہوتی ہیں:
- فعل (کام کرنا)
- ارادہ اور مشیّت
- علم
- اور حکمت
لیکن شریعت میں قدر چار چیزوں پر مشتمل ہے:
- 1. اللہ کا پہلے سے سب کچھ جاننا۔
- 2. اس کا پہلے سے لکھ دینا۔
- 3. ہر چیز کا اللہ کی مشیّت سے ہونا۔
- 4. ہر چیز کا اللہ کی طرف سے پیدا کیا جانا۔
بحوالہ: كتاب شرح العقيدة الطحاوية – صالح آل الشيخ = إتحاف السائل بما في الطحاوية من مسائل ،صالح آل الشيخ ص: 238)
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے فرمایا: "قدر لغت میں تقدیر کے میں ہے یعنی اندازہ لگانے اور مقرر کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ” إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ” ‘بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک مقرر اندازے کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ (سورۂ القمر:49) اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے:﴿فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقَادِرُونَ﴾ [المرسلات ٢٣] ‘پھر ہم نے اندازہ مقرر کیا، اور ہم کتنے اچھے اندازہ مقرر کرنے والے ہیں۔’ "
قضاء اور قدر کی اصطلاحی تعریف:
بعض علماء نے قدر کی تعریف یوں کی ہے: هو علم الله بالأشياء قبل وقوعها وكتابته لها في اللوح المحفوظ وعموم مشيئته لما يقع وخلقه – عز وجل – للأشياء كلها. قدر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا وقوع سے پہلے علم ہے، اس نے اسے لوحِ محفوظ میں لکھ دیا ہے، جو کچھ ہوتا ہے وہ اس کی مشیّت سے ہوتا ہے، اور تمام چیزوں کا خالق بھی وہی ہے۔(بحوالہ: كتاب شرح العقيدة الطحاوية – صالح آل الشيخ = إتحاف السائل بما في الطحاوية من مسائل ،صالح آل الشيخ ص: 238)
قضاء و قدر سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ازل سے ہی تمام چیزوں کا اندازہ اور فیصلہ مقرر کر دیا ہے، اور اللہ سبحانہٗ کو پہلے ہی سے علم ہے کہ وہ چیزیں کس مقرر وقت پر اور کن خاص صفات کے ساتھ واقع ہوں گی۔ نیز اللہ تعالیٰ نے انہیں لکھ دیا ہے، ان کے ہونے کا ارادہ اور مشیت فرمائی ہے، اور وہ اسی طرح واقع ہوتی ہیں جیسا اللہ تعالیٰ نے ان کا اندازہ مقرر کیا ہے، اور اللہ ہی ان کو پیدا کرنے والا ہے۔
حوالہ: ملاحظہ کیجیے:
- (1) لوامع الأنوار البهیة از سفارینی (1/348)
- (2) شفاء العلیل از ابن القیم (ص: 83)
- (3) فتح الباری از ابن حجر عسقلانی (1/118)
- (4) العقيدة الواسطية از ابن تیمیہ (ص: 105)
تقدیر پر ایمان اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے:
یہ ایمان کے چھ ارکان میں سے چھٹا رکن ہے، نبی کریم ﷺ سے جب حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ایمان کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: “ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، قیامت کے دن پر اور اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لاؤ۔” (صحیح مسلم: 8) اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ تقدیر پر ایمان رکھنا ایمان کا لازمی حصہ ہے۔
تقدیر پر ایمان کی اقسام:
تقدیر پر ایمان اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے۔ علمائے اہلِ سنت نے نصوصِ قرآن و حدیث کی روشنی میں تقدیر کے چند مراتب اور اقسام بیان کیے ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
1- تقدیرِ علمی:
اس سے مراد یہ ہے کہ بندہ اس بات پر ایمان رکھے کہ اللہ تعالیٰ کو ازل سے تمام امور کا کامل اور محیط علم حاصل ہے۔ اس نے اپنے علمِ سابق سے جان لیا تھا کہ بندے کیا اعمال کریں گے؛ کون نیکی اختیار کرے گا اور کون بدی، کون اطاعت کرے گا اور کون معصیت۔ اسی طرح اس نے پہلے ہی سے جان لیا تھا کہ کون اہلِ جنت میں سے ہوگا اور کون اہلِ جہنم میں سے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کے اعمال کے مطابق ان کے لیے ثواب اور عقاب بھی پہلے ہی مقرر فرما دیا اور ان سب امور کو اپنے پاس لکھ بھی دیا۔ لہٰذا بندوں کے تمام اعمال اسی علمِ سابق اور تحریرِ الٰہی کے مطابق واقع ہوتے ہیں۔ (ماخوذ از: جامع العلوم والحکم، ابن رجب حنبلی)
2- تقدیرِ لوحِ محفوظ:
اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات میں ہونے والے تمام امور کو لوحِ محفوظ میں ثبت فرما دیا ہے۔ چنانچہ جو کچھ دنیا میں واقع ہوا ہے یا آئندہ ہوگا، وہ سب اس لوح میں محفوظ اور مقدر ہے۔ مفسرِ قرآن امام ابن کثیرؒ نے عبد الرحمن بن سلمان کا قول نقل کیا ہے: “اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی فیصلہ فرمایا ہے—قرآن سے متعلق امور ہوں یا اس سے پہلے اور بعد کے تمام معاملات—سب لوحِ محفوظ میں لکھے ہوئے ہیں۔” (تفسیر ابن کثیر)
3- تقدیرِ رحمی (رحمِ مادر میں تقدیر):
اس مرحلے سے مراد وہ تقدیر ہے جو انسان کے پیدا ہونے سے پہلے رحمِ مادر میں لکھی جاتی ہے۔ حدیثِ نبوی میں بیان ہوا ہے کہ جب جنین ایک خاص مرحلے تک پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے، اور اسے چار امور لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے:
- (1) اس کا رزق،
- (2) اس کی عمر،
- (3) اس کے اعمال،
- (4) اور یہ کہ وہ سعادت مند ہوگا یا بدبخت۔
(روایت: بخاری و مسلم)
4- تقدیرِ وقتی (اوقات میں تقدیر کا نفاذ):
اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن امور کو مقدر فرمایا ہے، وہ اپنے مقررہ وقت پر بندے تک پہنچتے ہیں۔ یعنی خیر اور شر دونوں اللہ ہی کی مخلوق ہیں، اور ان کے وقوع کے لیے بھی مخصوص اوقات مقرر ہیں۔ جب وہ وقت آتا ہے تو وہ تقدیر بندے پر نافذ ہو جاتی ہے۔ (ماخوذ از: شرح الأربعین للنووی)
تقدیر کے چار بنیادی درجات:
علمائے اسلام نے تقدیر کے چار اہم مراحل بیان کیے ہیں۔
1۔ اللہ کا کامل علم:
سب سے پہلے یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا مکمل علم ہے۔ اللہ کو یہ بھی معلوم ہے کہ ماضی میں کیا ہوا، حال میں کیا ہو رہا ہے اور مستقبل میں کیا ہونے والا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: “اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔” (سورۃ الانفال: 75)
2۔ لوحِ محفوظ میں لکھا جانا:
اسلامی عقیدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے کائنات میں ہونے والی تمام چیزوں کو لوحِ محفوظ میں لکھ دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے مخلوق کی تقدیر لکھ دی تھی۔” (صحیح مسلم: 2653)
3۔ اللہ کی مشیت اور ارادہ:
کائنات میں کوئی بھی چیز اللہ کی اجازت اور مشیت کے بغیر واقع نہیں ہو سکتی۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا: “اور تم کچھ نہیں چاہ سکتے مگر یہ کہ اللہ چاہے۔” (سورۃ الانسان: 30)
4۔ اللہ کی تخلیق:
کائنات میں ہونے والی ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: “اللہ ہر چیز کا خالق ہے۔” (سورۃ الزمر: 62)
کیا انسان مجبور ہے؟
تقدیر کے مسئلے میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ اگر سب کچھ پہلے سے طے ہے تو کیا انسان مجبور ہے؟ اسلام اس بارے میں اعتدال کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق: انسان کو ارادہ اور اختیار دیا گیا ہے وہ اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے ، لیکن اللہ کو پہلے سے علم ہوتا ہے کہ انسان کیا کرے گا۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا: “جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔” (سورۃ الکہف: 29) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو انتخاب کی آزادی دی گئی ہے۔
تقدیر کے بارے میں غلط فہمیاں:
کچھ لوگ تقدیر کے عقیدہ کو غلط سمجھ لیتے ہیں۔
غلطی نمبر 1:
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ چونکہ سب کچھ تقدیر میں لکھا ہے اس لیے عمل کی ضرورت نہیں۔
یہ بات درست نہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:“عمل کرو، ہر شخص کو اسی کام کی توفیق دی جاتی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔” (صحیح بخاری: 4949)
امام خطابیؒ فرماتے ہیں کہ بہت سے لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ قضاء و قدر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کے اعمال پر مجبور کر دیا ہے اور بندہ جو کچھ بھی کرتا ہے وہ اس کے اختیار کے بغیر ہوتا ہے۔
لیکن یہ تصور درست نہیں ہے۔
درحقیقت قضاء و قدر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو پہلے ہی سے علم ہے کہ بندے آئندہ کیا اعمال کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام امور کو اپنے علم اور اندازے کے مطابق مقرر کیا ہے اور ہر چیز اسی کے حکم اور مشیت سے وجود میں آتی ہے، خواہ وہ نیکی ہو یا برائی۔
"قدر” اس چیز کو کہتے ہیں جو اللہ کے اندازے اور فیصلے کے مطابق واقع ہو۔ اور "قضاء” کا ایک معنی پیدا کرنا اور وجود میں لانا بھی ہے۔ اسی معنی میں قرآن کریم میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو دن میں سات آسمان پیدا کیے۔
البتہ اس سب کے باوجود انسان بالکل مجبور نہیں ہے۔ وہ اپنے اعمال اپنے ارادے، نیت اور اختیار کے ساتھ انجام دیتا ہے۔ اسی وجہ سے اس کے اعمال کی ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے اور قیامت کے دن اسی بنیاد پر اس سے حساب لیا جائے گا۔ "دیکھیں: معالم السنن، جلد 4، صفحہ 322۔”
غلطی نمبر 2
کچھ لوگ گناہوں کو بھی تقدیر کا بہانہ بنا لیتے ہیں۔
حالانکہ اسلام میں انسان اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔
تقدیر پر ایمان کے فوائد
1- رضا، یقین اور قلبی سکون:
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ﴾ [التغابن: 11] (کوئی مصیبت نہیں آتی مگر اللہ کے حکم سے) اور فرمایا: ﴿وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ﴾ [التغابن: 11]
ابن کثیرؒ لکھتے ہیں کہ جو شخص مصیبت آنے پر یہ یقین رکھے کہ یہ اللہ کی قضا و قدر سے ہے اور صبر کرے تو اللہ اس کے دل کو ہدایت اور سچا یقین عطا فرماتا ہے، یہاں تک کہ وہ جان لیتا ہے کہ جو اسے پہنچا وہ ٹل نہیں سکتا تھا اور جو نہ پہنچا وہ اس کے نصیب میں نہیں تھا۔
2-عظیم اجر کا حصول:
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ * الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ * أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ﴾[البقرہ: 155-157]
3- گناہوں کا کفارہ:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مومن کو جو بھی تکلیف، بیماری، غم یا فکر لاحق ہوتی ہے، یہاں تک کہ دل کی پریشانی بھی، اللہ اس کے ذریعے اس کے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔” (متفق علیہ)
4- غم و خوشی میں اعتدال:
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ … لِكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ﴾ [الحدید: 22-23]
ابن کثیرؒ فرماتے ہیں: اللہ کی نعمتوں پر تکبر نہ کرو، کیونکہ یہ اس کی عطا اور تقدیر سے ہیں۔
عکرمہؒ کہتے ہیں: ہر انسان خوش بھی ہوتا ہے اور غمگین بھی، لیکن خوشی کو شکر اور غم کو صبر بنا لو۔
5- دل کی حقیقی دولت:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ نے جو تمہیں دیا ہے اس پر راضی رہو، تم سب سے زیادہ مالدار ہو جاؤ گے۔” (احمد، ترمذی) اور فرمایا: "اصل مالداری مال کی کثرت نہیں بلکہ دل کی مالداری ہے۔” (متفق علیہ)
6- شجاعت اور جرأت:
تقدیر پر ایمان رکھنے والا شخص بہادر ہوتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ موت اور زندگی کا وقت مقرر ہے اور جو چیز مقدر نہیں وہ نہیں پہنچ سکتی۔
7- مخلوق کے ضرر سے بے خوفی:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اگر پوری امت تمہیں فائدہ پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو وہ تمہیں فائدہ نہیں پہنچا سکتی مگر وہی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر سب تمہیں نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہو جائیں تو وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر وہی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔”
(ترمذی)
8- موت کا خوف کم ہو جانا:
حضرت علیؓ سے منسوب اشعار:
- أيَّ يوميَّ من الموت أفرّ
- يوم لم يُقدَر أم يوم قُدِر
- يوم لم يُقدَر لا أرهبه
- ومن المقدور لا ينجو الحذر
(میں موت کے کس دن سے بھاگوں؟ جو مقدر نہیں اس سے ڈر نہیں، اور جو مقدر ہے اس سے کوئی بچ نہیں سکتا۔)
9- گزرے ہوئے پر ندامت نہ کرنا:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”طاقتور مومن اللہ کے نزدیک زیادہ بہتر اور محبوب ہے… جو چیز تمہیں فائدہ دے اس کی کوشش کرو اور اللہ سے مدد مانگو… اور اگر کوئی مصیبت پیش آ جائے تو یہ نہ کہو: اگر میں ایسا کرتا تو ایسا ہوتا، بلکہ کہو: قدر الله وما شاء فعل۔” (مسلم)
10- اللہ کے فیصلے میں خیر کا یقین:
بسا اوقات انسان کسی چیز کو ناپسند کرتا ہے مگر وہی اس کے لیے بہتر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ … وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ [البقرہ: 216]
اسی لیے مومن ہر حال میں اللہ کی تقدیر پر راضی رہتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ اس کے ہر فیصلے میں حکمت اور بھلائی ہے۔
نتیجہ:
تقدیر پر ایمان اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک اہم عقیدہ ہے۔ ایک مسلمان کو یقین ہونا چاہیے کہ کائنات میں ہونے والی ہر چیز اللہ کے علم اور حکمت کے مطابق ہوتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلام ہمیں عمل، دعا اور کوشش کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ ایک مومن کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں محنت کرے، اللہ پر توکل کرے اور ہر حال میں اس کی رضا پر راضی رہے۔ اسی اعتدال اور توازن کا نام صحیح عقیدۂ تقدیر ہے۔