تعارف:
آج کا دور ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کا دور ہے۔ جہاں ڈیجیٹل آلات نے زندگی کو آسان بنایا ہے، وہاں والدین کے لیے بچوں کی اسلامی تربیت ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ سمارٹ فونز، سوشل میڈیا اور گیمنگ کی دنیا میں بچوں کے اخلاق اور عقائد کی حفاظت کیسے کی جائے؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر مسلمان والدین کے ذہن میں ہے۔ اس مقالے میں ہم ان عملی طریقوں پر بحث کریں گے جن کے ذریعے آپ اپنے بچوں کو ڈیجیٹل یلغار سے بچا کر ایک سچا مسلمان بنا سکتے ہیں۔
عنوان کے عناصر
Toggleڈیجیٹل دور کے چیلنجز اور ہماری ذمہ داری:
ڈیجیٹل میڈیا نے جہاں آسانیاں پیدا کی ہیں وہیں کئی خطرات بھی لائے ہیں۔ جہاں اچھائیاں جسقدر جلدی سے پھیلنے کا امکان ہے وہیں پر برائیاں بھی اسی قدر سے پھیل سکتی ہیں اس دو پہلو کے چیلنج کو سامنے رکھ کر بچوں کی تربیت محض انہیں کھانا کھلانے یا اچھے سکول میں داخل کرانے کا نام نہیں، بلکہ ان کی روح اور کردار کی نشوونما کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ” اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔” (التحریم: 6)
تربیت اولاد کی اہمیت:
تربیت بہت عظیم اور بہترین کام ہے۔ یہ صرف پڑھانے کا نام نہیں بلکہ اچھی بات سکھانے، نصیحت کرنے، صحیح راستہ دکھانے اور خود اچھا نمونہ بننے کا نام ہے۔ تربیت سے انسان کا اخلاق سنورتا ہے اور معاشرہ بہتر بنتا ہے۔
یہ کام اس قدر اہم ہے کہ یہ انبیائے کرامؑ کا مشن رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا”هُوَالَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولاً مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ ﴾” {الجمعة: 2}. ترجمہ: …رسول لوگوں کو اللہ کی آیات سناتے، ان کا دل و کردار پاک کرتے اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتے تھے (سورۃ الجمعہ: 2)۔اس لیے جو شخص تعلیم و تربیت کا کام کرتا ہے، وہ ایک بہت بڑے اور مبارک کام میں لگا ہوا ہوتا ہے۔
- اولاد اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی نعمت اور زینت ہے۔ قرآن میں اللہ فرماتا ہے:﴿ الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ﴾ (الکہف: 46) یعنی مال اور اولاد دنیا کی زینت ہیں۔ لیکن یہ زینت اسی وقت فائدہ دیتی ہے جب ہم اپنی اولاد کی اچھی تربیت کریں۔ اگر ہم انہیں دین، نماز، اخلاق اور اچھے آداب سکھائیں گے تو وہ ہمارے لیے باعثِ فخر اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بنیں گے۔
محمد ﷺ نے فرمایا کہ ہر شخص ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ والدین اپنی اولاد کے بارے میں اللہ کے سامنے جواب دہ ہوں گے۔
تربیت اولاد کے سلسلے میں امام غزالی کا قول: قال الإمام الغزالي – رحمه الله تعالى -: (الصبيُّ أمانةٌ عند والديه، وقلبه الطاهر جوهرةٌ نفيسةٌ خاليةٌ عن كل نقشٍ وصورة، وهو قابلٌ لكل نقش، ومائلٌ إلى كل ما يُمالُ إليه، فإن عُوِّد الخيرَ نشأ عليه، وسَعِدَ في الدنيا والآخرة أبواه، وإن عُوِّد الشر وأًهْمِلَ إهمال البهائم، شَقِيَ وهَلَكَ،وكان الوزر في رقبة القيِّم عليه. وكما أن البدن في الابتداء لا يخلق كاملاً، وإنما يكمل ويقوى بالغذاء، فكذلك النفس تخلق ناقصة قابلة للكمال، وإنما تكمل بالتربية، وتهذيب الأخلاق، والتغذية بالعلم:
- وضاحت: بچہ اپنے والدین کے پاس ایک قیمتی امانت ہوتا ہے۔ اس کا پاکیزہ اور معصوم دل ایک ایسے بیش قیمت جوہر کی مانند ہے جو ہر نقش و اثر سے خالی ہوتا ہے۔ اس میں ہر نقش قبول کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے اور جس سمت اسے موڑ دیا جائے وہ اسی طرف مائل ہو جاتا ہے۔
اگر اسے نیکی، بھلائی اور اچھے اخلاق کی عادت ڈالی جائے تو وہ انہی خوبیوں پر پروان چڑھتا ہے، اور اس کی وجہ سے وہ خود بھی دنیا و آخرت میں کامیاب ہوتا ہے اور اس کے والدین اور اساتذہ بھی اس سعادت میں شریک ہوتے ہیں۔ لیکن اگر اسے برائی اور بد اخلاقی کی طرف چھوڑ دیا جائے اور جانوروں کی طرح نظر انداز کر دیا جائے تو وہ بدبختی اور ہلاکت کا شکار ہو جاتا ہے، اور اس کی ذمہ داری اس شخص کے سر ہوتی ہے جو اس کی تربیت کا ذمہ دار تھا۔
جس طرح انسانی جسم ابتداء میں مکمل اور مضبوط پیدا نہیں ہوتا بلکہ غذا اور پرورش کے ذریعے بتدریج نشوونما پاتا ہے، اسی طرح انسان کی روح اور نفس بھی ابتدا میں ناقص ہوتے ہیں مگر ان میں کمال حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ یہ کمال صحیح تربیت، اخلاق کی اصلاح اور علم کی غذا کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔
اسلامی تربیت کے بنیادی ستون:
ڈیجیٹل دنیا کا مقابلہ صرف اور پابندیوں سے نہیں بلکہ مضبوط بنیادوں سے کیا جا سکتا ہے۔ اسلامی تربیت کا مطلب یہ ہے کہ بچے کی شخصیت کو:
- ایمان،
- اخلاق،
- علم،
- اور عمل
کے سانچے میں ڈھالا جائے۔ قرآن کریم میں والدین کو اپنی اولاد کی درست رہنمائی کی تاکید کی گئی ہے عاقبت کے اعتبار سے
- خوفناک چیزوں سے
- بد اخلاقی سے،
- باطل عقائد سے
ڈرانے حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا "وَأَنذِرۡ عَشِیرَتَكَ ٱلۡأَقۡرَبِینَ” ترجمہ: اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے (خبردار کیجیے) سورۃ الشعراء :214
تربیت کا آغاز گھر سے:
بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود اور گھر کا ماحول ہے۔ اگر گھر میں نماز، تلاوت، ذکر اور اچھے اخلاق کا ماحول ہوگا تو بچہ فطری طور پر ان اقدار کو اپنائے گا۔ اس لیے والدین خود عملی نمونہ بنیں۔
- تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ ماں کی فطری محبت اور شفقت بچے کی جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی نشوونما میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، جبکہ ماں کی محبت سے محرومی بچے پر منفی اثرات ڈالتی ہے۔ اسی لیے اسلام نے عورت کو گھر کی نگہبان اور بچوں کی پہلی مربیہ قرار دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگہبان ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے۔”
اسی بنا پر شریعت نے ابتدائی بچپن میں حضانت کا حق خاص طور پر ماں کو دیا ہے۔ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: میرا بیٹا میرے پیٹ میں پلا، میری گود میں پروان چڑھا اور میرے دودھ سے سیراب ہوا، لیکن اس کا باپ اسے مجھ سے جدا کرنا چاہتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "جب تک تم نکاح نہ کرو، تم اس کی زیادہ حق دار ہو۔” (احمد، ابو داؤد)
- اسلامی تاریخ میں ماں کی ذمہ داری اور شفقت کی روشن مثالیں بھی ملتی ہیں۔ حضرت اُمِّ ہانیؓ نے نکاح کے پیغام پر عرض کیا کہ اگر وہ شوہر کے حقوق ادا کریں گی تو ممکن ہے بچوں کے حقوق میں کمی ہو جائے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے قریش کی عورتوں کی تعریف فرمائی کہ وہ اپنے بچوں پر سب سے زیادہ شفقت کرنے والی اور شوہروں کے حقوق کی حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں۔
اسی طرح حضرت اُمِّ سلیمؓ نے اپنے بیٹے حضرت انسؓ کی بہترین تربیت کی اور جب وہ بڑے ہوئے تو انہیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیج دیا تاکہ وہ آدابِ نبوت اور علم سیکھیں۔ حضرت انسؓ کہا کرتے تھے: "اللہ میری ماں کو جزائے خیر دے، انہوں نے میری بہترین پرورش کی۔”
یہ مثالیں اس عظیم ماں کی تصویر پیش کرتی ہیں جو اپنی ذمہ داری کو پہچانتی ہے اور اپنی اولاد کی صحیح تربیت کو اپنی زندگی کا مقصد بناتی ہے۔
والدین کا اپنا کردار: قول سے زیادہ فعل اہم، مثالی نمونہ (Role Model) :
بچوں کی تربیت میں والدین کا کردار سب سے زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بچے نصیحتوں سے کم اور والدین کے عمل سے زیادہ سیکھتے ہیں۔ بچہ وہ نہیں کرتا جو اسے کہا جاتا ہے، بلکہ وہ وہی کرتا ہے جو وہ اپنے والدین کو کرتے ہوئے دیکھتا ہے۔ اگر والدین بچوں کو
- سچائی،
- نماز،
- اچھے اخلاق،
- اور نظم و ضبط
کی تلقین کریں لیکن خود ان چیزوں کی پابندی نہ کریں تو بچے پر ان نصیحتوں کا زیادہ اثر نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس جب والدین خود دیانت داری، عبادت اور اچھے اخلاق کا عملی نمونہ پیش کرتے ہیں تو بچے فطری طور پر انہی عادات کو اختیار کرنے لگتے ہیں۔ اور بچہ ڈیجیٹل دنیا کی جھوٹی چکا چوند سے متاثر نہ ہوتا۔
اسلام بھی قول اور عمل کی یکسانیت پر زور دیتا ہے۔ قرآن کریم میں فرمایا گیا:”يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ” یعنی: اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو خود نہیں کرتے۔
لہٰذا والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں اچھے کردار اور دینی اقدار کو عملی طور پر اپنائیں، کیونکہ بچوں کی سب سے مؤثر تربیت نصیحت سے نہیں بلکہ عملی نمونے سے ہوتی ہے۔
ڈیجیٹل مصروفیت اور بچوں پر اس کے اثرات:
آج کے ڈیجیٹل دور میں اگر والدین خود ہی سوشل میڈیا جیسے:
- فیس بک،
- انسٹاگرام،
- اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز
میں ضرورت سے زیادہ مصروف رہیں، گھنٹوں ویڈیوز دیکھنے اور غیر ضروری مواد میں وقت ضائع کرنے کے عادی ہو جائیں، اور اس دوران دینی و اخلاقی اقدار کی پامالی کو معمولی سمجھنے لگیں، تو اس کا گہرا اثر بچوں کی تربیت پر پڑتا ہے۔
بچے عموماً اپنے والدین کو اپنا نمونہ اور آئیڈیل سمجھتے ہیں، اس لیے وہ بھی انہی عادات کو اختیار کرنے لگتے ہیں۔ آہستہ آہستہ وہ بھی سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل تفریح کی لت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً جب والدین انہیں ان سرگرمیوں سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ کام انتہائی دشوار ہو جاتا ہے، کیونکہ بچے پہلے ہی اس ماحول کے عادی بن چکے ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ والدین خود اعتدال اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تاکہ بچوں کی صحیح دینی اور اخلاقی تربیت ممکن ہو سکے۔
بچوں کی تربیت کے مقاصد:
بچوں کی اسلامی تربیت کا مقصد یہ ہے کہ بچہ بچپن ہی سے اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت اور اس کی نافرمانی سے بچنے کی عادت اختیار کرے، اور شریعتِ اسلامی کو اپنی زندگی کا طریقہ سمجھے۔ اسی طرح اس میں اچھے اخلاق، دوسروں کے ساتھ ہمدردی، خوش مزاجی، سماجی سمجھ بوجھ، خود اعتمادی اور بہادری جیسی صفات پیدا کی جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام مقاصد کو ایک جامع لفظ “قُرَّةَ أَعْيُنٍ” کے ذریعے بیان فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ﴾ (الفرقان: 74) یعنی: اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔
امام بغویؒ فرماتے ہیں: “قُرَّةَ أَعْيُنٍ” سے مراد نیک اور متقی اولاد ہے جو اللہ کی اطاعت کرنے والی ہو۔
اور امام قرطبیؒ لکھتے ہیں: مومن کے لیے سب سے بڑی خوشی یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی اور اولاد کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں دیکھے۔
اس طرح نیک اور صالح اولاد ہی دراصل والدین کی حقیقی خوشی اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتی ہے۔ بحوالہ تفسیر بغوی: 6/99
انٹرنیٹ اور گیجٹس کے استعمال کے اسلامی اصول:
ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں، لیکن اسے "حلال” حدود میں لانا ضروری ہے۔
ڈیجیٹل اخلاقیات (Digital Ethics):
بچوں کو سمجھایا جائے کہ انٹرنیٹ پر بھی وہی اخلاق اپنائیں جو حقیقی زندگی میں اپناتے ہیں۔ انہیں یہ تعلیم دی جائے کہ:
- کسی کا مذاق اڑانا،
- برے کمنٹس کرنا
- یا کسی کی غیبت کرنا
درست نہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:“کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے” (الحجرات: 11) اور غیبت سے بھی منع فرمایا ہے (الحجرات: 12)۔
اسی طرح بچوں کو یہ بھی سکھائیں کہ:
- بغیر تحقیق کے کوئی خبر یا معلومات شیئر نہ کریں
- اور دوسروں کی عزت اور پرائیویسی کا احترام کریں۔
- کسی کی تصویر، ویڈیو یا ذاتی بات اجازت کے بغیر پھیلانا غلط عمل ہے۔
مختصر یہ کہ بچوں کو سکھایا جائے کہ انٹرنیٹ کو علم، بھلائی اور مثبت کاموں کے لیے استعمال کریں اور ہر حال میں اسلامی اخلاق کو سامنے رکھیں۔
سکرین ٹائم کا شیڈول:
ڈیجیٹل دور میں بچوں اور بڑوں کے لیے سکرین ٹائم کو منظم کرنا ضروری ہے تاکہ وقت ضائع نہ ہو اور دینی و خاندانی زندگی متاثر نہ ہو۔ اس کے لیے گھر میں واضح اصول بنائے جا سکتے ہیں:
- نماز کے اوقات میں سکرین بند:
نماز کے وقت موبائل، ٹی وی اور دیگر اسکرینوں کو بند رکھنا چاہیے تاکہ پوری توجہ عبادت پر رہے۔
دلیل: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ “اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔” (سورۃ طٰہٰ: 14) - کھانے کے وقت فون کا استعمال نہ ہو:
کھانے کی میز پر فون استعمال کرنے سے خاندانی گفتگو اور تربیت متاثر ہوتی ہے۔ بہتر ہے کہ اس وقت سب افراد آپس میں بات کریں۔ دلیل: نبی ﷺ نے فرمایا: “آدمی کے لیے یہی گناہ کافی ہے کہ وہ اپنے زیرِ کفالت لوگوں کو ضائع کر دے۔” (ابو داود) - سونے سے پہلے گیجٹس بند:
رات کو سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے موبائل اور دیگر گیجٹس بند کر دینا چاہیے تاکہ نیند بہتر ہو اور دل و دماغ سکون حاصل کرے۔ اس وقت کو دعا، ذکر یا مطالعہ میں گزارنا بہتر ہے۔
اگر گھر میں سکرین ٹائم کے واضح اصول بنائے جائیں تو بچوں کی دینی تربیت، صحت اور خاندانی تعلقات بہتر رہتے ہیں
بچوں کے لیے متبادل تعمیری سرگرمیاں:
صرف بچوں کو "نہ” کہنا کافی نہیں ہوتا، بلکہ انہیں اس کا بہتر متبادل بھی دینا ضروری ہے۔ اگر والدین صرف موبائل یا سوشل میڈیا سے روک دیں لیکن کوئی مثبت سرگرمی فراہم نہ کریں تو بچے دوبارہ اسی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کو ایسی تعمیری اور مفید سرگرمیوں کی طرف متوجہ کیا جائے جو ان کی ذہنی، جسمانی اور اخلاقی نشوونما میں مدد دیں۔مثلاً:
- بچوں کو کتاب پڑھنے کی عادت،
- قرآن کی تلاوت،
- کھیل کود،
- ڈرائنگ،
- تخلیقی سرگرمیوں
- اور گھریلو ذمہ داریوں
میں مشغول کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح والدین اگر بچوں کے ساتھ :
- وقت گزاریں،
- انہیں کہانیاں سنائیں
- اور مفید علمی سرگرمیوں میں شامل کریں
تو بچے خود بخود مثبت کاموں کی طرف راغب ہونے لگتے ہیں۔
اس طرح بچوں کو صرف منع کرنے کے بجائے صحیح اور مفید راستہ دکھانا ہی حقیقی تربیت ہے۔
سائبر ہراسانی اور فحاشی سے بچاؤ کی تدابیر:
ڈیجیٹل دور کا سب سے بڑا فتنہ فحش مواد تک آسان رسائی ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے بچے اور نوجوان باآسانی ایسے مواد تک پہنچ سکتے ہیں جو ان کی اخلاقی اور ذہنی تربیت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ اس لیے والدین اور سرپرستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے انٹرنیٹ استعمال پر نظر رکھیں اور ایسے اقدامات کریں جو انہیں فحاشی اور سائبر ہراسانی سے محفوظ رکھ سکیں۔
فلٹرز اور پیرنٹل کنٹرول (Parental Controls):
بچوں کو غیر اخلاقی مواد سے بچانے کے لیے:
- انٹرنیٹ فلٹرز
- اور Parental Controls
کا استعمال بہت مفید ہے۔ مثال کے طور پر گوگل اور یوٹیوب میں Safe Search یا Restricted Mode کو فعال کیا جا سکتا ہے، جس سے فحش یا نامناسب مواد بڑی حد تک فلٹر ہو جاتا ہے۔
خلاصہ کلام؛
ڈیجیٹل دور میں بچوں کی اسلامی تربیت ایک اہم اور نازک ذمہ داری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ محبت، حکمت اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے بچوں کی رہنمائی کریں۔ ٹیکنالوجی کو دشمن سمجھنے کے بجائے اسے مثبت انداز میں استعمال کریں۔ قرآن و سنت کی روشنی میں مضبوط بنیاد رکھنے سے بچے نہ صرف دنیا میں کامیاب ہوں گے بلکہ آخرت میں بھی سرخرو ہوں گے۔ اسلامی تربیت ہی وہ سرمایہ ہے جو آنے والی نسلوں کو گمراہی سے بچا سکتا ہے اور ایک صالح معاشرہ تشکیل دے سکتا ہے۔