عنوان کے عناصر
Toggleرمضان المبارک عبادت اور تقویٰ کا مہینہ ہے۔ بدلتے ہوئے دور میں جہاں ٹیکنالوجی اور میڈیکل سائنس نے ترقی کی ہے، وہیں مسلمانوں کے ذہنوں میں روزے سے متعلق کئی نئے سوالات جنم لیتے ہیں۔ عام طور پر لوگ جانتے ہیں کہ جان بوجھ کر کھانے پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، لیکن کیا جدید طبی آلات اور روزمرہ کی نئی اشیاء کا استعمال روزے پر اثر انداز ہوتا ہے؟ اس آرٹیکل میں ہم مستند فقہی مآخذ کی روشنی میں ان 10 جدید مسائل کا حل پیش کریں گے جو آج کے دور میں سب سے زیادہ پوچھے جاتے ہیں۔
روزے کی حقیقت اور بنیادی اصول:
مسائل کی تفصیل میں جانے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ روزہ ٹوٹنے کا بنیادی اصول کیا ہے۔ فقہ اسلامی کے مطابق، اگر کوئی چیز "جوف” (معدہ یا دماغ) تک کسی قدرتی راستے (منہ، ناک وغیرہ) سے پہنچ جائے، تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ جدید مسائل میں علماء کرام اسی اصول کو مدنظر رکھ کر رہنمائی فرماتے ہیں۔
مفطرات دو قسم کے ہیں:
1️⃣ وہ جن پر شریعت میں صراحت ہے، جیسے کھانا اور پینا۔
2️⃣ وہ جو کھانے پینے کے قائم مقام ہوں۔
روزے کے 10 جدید مسائل اور ان کی شرعی حیثیت:
1. انجکشن (Injection) اور ڈرپ کا استعمال:
غذائی انجکشن یا گلوکوز/نمکیاتی ڈرِپ جو کھانے پینے کا بدل بن جائے → روزہ توڑ دیتی ہے۔
علاجی انجکشن (جیسے انسولین، پینسلین، ویکسین وغیرہ) → روزہ نہیں توڑتے، چاہے رگ یا پٹھے میں لگائے جائیں۔
ڈائلاسز چونکہ خون میں غذائی مواد شامل کرتا ہے، اس لیے مفطر ہے۔ سخت مشقت کرنے والا مزدور پہلے سے روزہ نہیں چھوڑ سکتا، البتہ اگر جان یا صحت کو خطرہ ہو تو بقدرِ ضرورت افطار کر کے بعد میں قضا کرے۔ حیلہ کر کے روزہ توڑنا جائز نہیں۔
اصل قاعدہ: جو چیز کھانے پینے کے قائم مقام ہو وہ مفطر ہے، ورنہ نہیں۔
2. دمہ کے مریضوں کے لیے انہیلر (Inhaler)
دمہ کا انہیلر ایک اسپرے ہے جس میں دوا، پانی اور آکسیجن شامل ہوتے ہیں۔ دبانے پر دوا باریک ذرات کی شکل میں سانس کی نالی میں داخل ہوتی ہے تاکہ پھیپھڑوں تک پہنچ سکے۔ اس کا اصل مقصد معدہ نہیں بلکہ نظامِ تنفس ہے۔
🔹 بعض علماء نے کہا کہ چونکہ اس کا کچھ حصہ معدے تک پہنچ سکتا ہے، اس لیے روزہ ٹوٹ جائے گا۔
🔹 لیکن جمہور معاصر علماء کے نزدیک انہیلر روزہ نہیں توڑتا، اور یہی قول راجح ہے، کیونکہ:
1️⃣ اصل یہ ہے کہ روزہ صحیح ہے، اور معدے تک دوا کا پہنچنا یقینی نہیں بلکہ محض احتمال ہے۔
2️⃣ اگر معمولی مقدار پہنچ بھی جائے تو وہ نہایت کم اور غیر مقصود ہوتی ہے، جیسے کلی یا مسواک کے ذرات، جنہیں شریعت نے معاف کیا ہے۔
اسی موقف کو شیخ ابن بازؒ، شیخ ابن عثیمینؒ، شیخ ابن جبرینؒ اور دائمی فتویٰ کمیٹی نے اختیار کیا ہے۔
خلاصہ: دمہ کا انہیلر چونکہ غذا یا مشروب نہیں اور اس کا مقصد پھیپھڑوں تک دوا پہنچانا ہے، اس لیے راجح قول کے مطابق اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔
3. خون کا ٹیسٹ (Blood Test/Donation)
🔹 اگر خون تھوڑی مقدار میں لیا جائے (جیسے ٹیسٹ کے لیے)، تو روزہ فاسد نہیں ہوتا اور قضا لازم نہیں۔ (فتاویٰ اللجنة الدائمة)
🔹 شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ کے مطابق: خون کا ٹیسٹ ضرورت کی بنا پر ہوتا ہے اور یہ مفطرات میں شامل نہیں، لہٰذا روزہ صحیح رہتا ہے۔
🔹 اگر خون زیادہ مقدار میں لیا جائے (جیسے بلڈ ڈونیشن)، تو بعض علماء نے اسے حجامہ پر قیاس کرتے ہوئے روزہ ٹوٹنے کا سبب کہا ہے۔ اس صورت میں اختلاف سے بچنے کے لیے قضا کر لینا بہتر ہے۔ (شیخ ابن جبرین رحمہ اللہ)
لہذا؛ خون کا معمولی ٹیسٹ روزہ نہیں توڑتا، البتہ زیادہ مقدار میں خون دینے کی صورت میں احتیاطاً قضا کر لینا بہتر ہے۔
4. ٹوتھ پیسٹ اور منجن کا استعمال:
🔹 روزے دار کے لیے ٹوتھ پیسٹ یا ماؤتھ واش استعمال کرنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ اسے نگلے نہیں۔
🔹 اگر جان بوجھ کر کچھ نگل لیا تو روزہ فاسد ہو جائے گا۔
🔹 اگر بغیر ارادہ کے حلق میں چلا جائے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
🔹 احتیاطاً بہتر ہے کہ ٹوتھ پیسٹ افطار کے بعد استعمال کیا جائے۔
مسواک کا حکم:
روزے کی حالت میں مسواک کرنا دن کے شروع اور آخر دونوں وقت جائز ہے، اور اس میں کوئی کراہت نہیں۔ اس کی دلیل نبی ﷺ کے یہ ارشادات ہیں: "السواك مطهرة للفم مرضاة للرب” (مسواک منہ کو پاک کرنے والی اور رب کو راضی کرنے والی ہے) اور فرمایا: "لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم بالسواك عند كل صلاة” (اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا) لہذا : ٹوتھ پیسٹ جائز ہے مگر احتیاط ضروری ہے، جبکہ مسواک ہر وقت مشروع اور باعثِ ثواب ہے۔
5. شوگر کے مریضوں کے لیے انسولین (Insulin)
شوگر کے مریض روزانہ انسولین کے ٹیکے لگاتے ہیں۔ انسولین چونکہ پیٹ کی کھال یا رگ میں لگائی جاتی انسولین کا انجیکشن روزے کو نہیں توڑتا، کیونکہ یہ نہ کھانے پینے کی چیز ہے اور نہ ہی کھانے پینے کے مفہوم میں آتا ہے۔ اصل میں روزہ برقرار رہتا ہے، اور اس پر حکم صرف شرعی دلیل کی بنیاد پر بدل سکتا ہے، لہٰذا اس کا روزہ صحیح ہے۔
البتہ، اگر کسی بزرگ یا بیمار عورت (مثلاً آپ کی ساس یا والدہ) کے لیے روزہ رکھنے سے نقصان یا دشواری ہو اور یہ کسی معتبر طبیب سے ثابت ہو، تو اس کے لیے روزہ چھوڑنا جائز ہے۔ ایسے روزے کی قضا کی جگہ یا ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا دینا واجب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اور جو لوگ روزہ رکھنے پر قادر نہ ہوں، ان کے لیے فدیہ ہے، یعنی مسکین کو کھانا دینا” [البقرة:184]
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ رعایت بزرگوں اور کمزور افراد کے لیے نازل ہوئی، جو روزہ نہیں رکھ سکتے، تو ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھلانا لازم ہے۔ (رواہ البخاری)
6. پرفیوم، عطر اور خوشبو کا استعمال:
🔹 عام پرفیوم اور عطر لگانا یا سونگھنا جائز ہے، اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، کیونکہ یہ صرف خوشبو ہے، کوئی مادی چیز معدے تک نہیں پہنچتی۔
🔹 بخور (اگر بتی وغیرہ) جلانا جائز ہے، لیکن اس کا دھواں قصداً ناک کے ذریعے اندر کھینچنا درست نہیں، کیونکہ اس کے ذرات اندر جا سکتے ہیں۔ بعض علماء کے نزدیک ایسا کرنے سے روزہ ٹوٹ بھی سکتا ہے، اس لیے احتیاط ضروری ہے۔
لہذا: عام خوشبو سے روزہ نہیں ٹوٹتا، البتہ بخور کے دھوئیں کو جان بوجھ کر سونگھنے سے بچنا چاہیے۔
7. روزے کی حالت میں مقعد کے راستے حقنہ (Enema) کا حکم
اس مسئلے میں اہلِ علم کے دو قول ہیں:
پہلا قول : (چاروں مذاہب کا موقف): احناف(المبسوط) للسرخسي (3/62)، مالکیہ(الشرح الكبير للدردير وحاشية الدسوقي)(1/425)، شوافع (المجموع) للنووي (6/320).اور حنابلہ (كشاف القناع) للبهوتي (2/318)، (المغني) لابن قدامة (3/121).کے نزدیک روزہ ٹوٹ جاتا ہے، کیونکہ دوا اندرونی حصے تک اختیار سے پہنچتی ہے، لہٰذا اسے کھانے پینے کے مشابہ قرار دیا گیا ہے۔
دوسرا قول: ظاہریہ اور بعض دیگر علماء کے نزدیک روزہ نہیں ٹوٹتا، کیونکہ: حقنہ غذا نہیں بنتا۔ اس کے مفطر ہونے پر صریح نص موجود نہیں۔
اصل یہ ہے کہ روزہ صحیح رہے گا جب تک واضح دلیل نہ ہو۔
خلاصہ: اس میں اختلاف ہے، تاہم بعض معاصر علماء( ابن تیمیہ، ابن باز، ابن عثیمین، حسن صالح، ظاہریہ) کے نزدیک راجح قول یہ ہے کہ اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔ عام شرجی حقنہ (Enema) جو صرف فضلات نکالنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، کیونکہ وہ غذا یا تقویت کا ذریعہ نہیں بنتا۔ البتہ اگر ایسی دوا ہو جو آنتوں میں جا کر جذب ہو اور بدن کو تغذیہ دے، تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔ اسی طرح پیشاب کی نالی، شرمگاہ یا گہرے زخم میں دوا ڈالنے سے بھی روزہ فاسد نہیں ہوتا۔ یہ بعض اہلِ علم کا قول ہے اور یہی راجح قرار دیا گیا ہے۔ حوالہ: شرح كتاب الجامع لأحكام الصيام وأعمال رمضان ، مؤلف: الشيخ الطبيب أحمد حطيبة
8، 9 ،10 -کیا آنکھ، کان اور ناک میں ڈراپ ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
بعض علماء کا یہ موقف ہے کہ کان اور آنکھ کے قطرے روزہ کو فاسد نہیں کرتے، اگرچہ وہ اندر (حلق یا معدہ) تک پہنچ جائیں؛اہلِ علم کے دو قولوں میں سے صحیح تر قول کے مطابق، کیونکہ اس بارے میں کوئی صریح نص موجود نہیں جو انہیں مفطر قرار دے، اور اس لیے بھی کہ یہ کھانے پینے کے راستے سے داخل نہیں ہوتے۔ (اسلام ویب:164955)
آنکھ کے قطرے کے سلسلے میں شیخ الاسلام Ibn Taymiyyah رحمہ اللہ اور شیخ Muhammad ibn Salih al-Uthaymeen رحمہ اللہ کی رائے یہ ہے کہ آنکھ میں قطرہ ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، چاہے اس کا ذائقہ حلق میں محسوس ہو جائے۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ اور ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ : "والعين ليست منفذا للأكل والشرب” آنکھ کھانے اور پینے کا منفذ نہیں ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا موقف یہ ہے کہ سرمہ (کحل) لگانے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا، چاہے اس کا ذائقہ حلق میں چلا جائے۔ کیونکہ: یہ کھانا یا پینا نہیں ہے۔ نہ ہی یہ کھانے پینے کے حکم میں آتا ہے۔ اس سے وہ فائدہ (غذا) حاصل نہیں ہوتی جو کھانے پینے سے حاصل ہوتی ہے۔ نبی ﷺ سے کوئی صحیح اور واضح حدیث ثابت نہیں کہ سرمہ یا آنکھ کا قطرہ روزہ توڑتا ہے۔
اصل قاعدہ یہ ہے کہ عبادت صحیح رہتی ہے جب تک اس کے ٹوٹنے کی واضح دلیل نہ ہو۔
لہٰذا اگر کسی نے روزے کی حالت میں آنکھ میں قطرہ ڈالا اور اسے حلق میں اس کا ذائقہ محسوس ہوا، تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
اور اگر قطرہ ڈالنے کے بعد وہ سو گیا اور اسے معلوم نہیں کہ اس نے کچھ نگلا یا نہیں، تو بھی روزہ صحیح ہے، کیونکہ یقین شک سے ختم نہیں ہوتا۔ بحوالہ الشرح الممتع (6 / 382).
ناک کا قطرہ یا ڈروپ:
شیخ ابن باز رحمہ اللہ اور محمد بن صالح العثیمین سے اس بابت پوچھنے پر انہوں نے جواب میں کہا ۔۔۔اگر ناک کا قطرہ معدے تک پہنچ جائے تو وہ روزہ توڑ دیتا ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے حضرت لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں فرمایا: أسبغ الوضوء وخلل بين الأصابع وبالغ في الاستنشاق إلا أن تكون صائمًا “وضو کو اچھی طرح مکمل طریقے سے کرو، انگلیوں کے درمیان خلال کرو (یعنی پانی پہنچاؤ)، اور ناک میں پانی اچھی طرح چڑھاؤ، مگر یہ کہ تم روزے کی حالت میں ہو۔”
اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ "الأنف منفذ” ناک حلق اور معدہ تک پہنچنے کا منفذ یعنی راستہ ہے۔ لہٰذا روزہ دار کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی ناک میں ایسی چیز ٹپکائے جو معدے تک پہنچ جائے۔ البتہ اگر ناک کا قطرہ معدے تک نہ پہنچے تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔