آج کے معاشی دور میں گاڑی یا گھر جیسی بڑی ضرورت کو نقد رقم سے پورا کرنا ہر کسی کے لیے ممکن نہیں۔ ایسے میں "قسطوں پر خریداری” (Installment/Hire Purchase) کا سہارا لیا جاتا ہے۔ لیکن ایک مسلمان کے لیے یہ سوال بنیادی ہے کہ کیا قسطوں کی صورت میں نقد قیمت سے زیادہ رقم دینا سود کے زمرے میں آتا ہے؟
اس مضمون میں ہم مستند فقہی مآخذ کی روشنی میں "بیع بالتقسیط” کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے۔
بیع بالتقسیط (قسطوں پر بیع) کیا ہے؟
بیع التقسیط: والبيع بالتقسيط هو : بيع بثمن مؤجل يدفع إلى البائع في أقساط متفق عليها، فيدفع البائع البضائع المباعة إلى المشتري حالة، ويدفع المشتري الثمن في أقساط مؤجلة.
بالتقسیط یہ ہے: ایک ایسی خرید و فروخت جس میں قیمت مؤخر ہوتی ہے اور خریدار اسے طے شدہ قسطوں میں بیچنے والے کو ادا کرتا ہے۔ یعنی بیچنے والا سامان فوراً خریدار کے حوالے کر دیتا ہے، اور خریدار قیمت بعد میں قسطوں کی صورت میں ادا کرتا ہے۔ کتاب: (بحوالہ: مسائل فقیہ معاصرہ، ص 506)، مؤلف : عبد الرحمٰن بن عبد اللہ بن محمد السند۔
فقہی اصطلاح میں اس سے مراد ایسی خرید و فروخت ہے جس میں سامانِ تجارت (مثلاً گاڑی) فوراً خریدار کے حوالے کر دیا جاتا ہے، لیکن اس کی قیمت خریدار طے شدہ مدت میں قسطوں کی صورت میں ادا کرتا ہے۔ (بحوالہ: مسائل فقیہ معاصرہ، ص 506)۔
شرعی حکم: کات نقد کے مقابلے مںل قسطوں کی قمتے زیادہ رکھنا جائز ہے؟
قسطوار خرید و فروخت کے مسئلے میں فقہاءِ کرام کے دو معروف اقوال ہیں:
پہلا قول: جواز کا، جمہور فقہاء یعنی احناف، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک قسطوں پر خرید و فروخت جائز ہے۔ ان کے نزدیک یہ معاملہ شرعاً درست ہے، بشرطیکہ اس میں دھوکا، سود یا کسی ناجائز شرط کی آمیزش نہ ہو۔
دلائلِ جمہور:
جمہور علماء اس کے جواز پر قرآنِ مجید کی ان عام آیات سے استدلال کرتے ہیں جو مطلق بیع و تجارت کے حلال ہونے کو بیان کرتی ہیں، کیونکہ قسطوں کی بیع بھی دراصل بیع ہی کی ایک صورت ہے، اس لیے وہ ان آیات کے عموم میں داخل ہے۔ مثلاً:
﴿ وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ﴾ [البقرہ: 275] ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے خرید و فروخت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔
﴿ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ ﴾ [النساء: 29] ترجمہ: ہاں، اگر آپس کی رضا مندی سے تجارت ہو (تو جائز ہے)۔
﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوهُ ﴾ [البقرہ: 282] ترجمہ: اے ایمان والو! جب تم آپس میں کسی مقررہ مدت کے لیے قرض کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔
سنت سے دلیل:اسی طرح صحیح بخاری و مسلم میں مذکور حضرت بریرہؓ کا واقعہ بھی دلیل ہے: انہوں نے اپنے آقاؤں سے نو اوقیہ کے عوض اپنی آزادی کا معاملہ کیا، اس طرح کہ ہر سال ایک اوقیہ ادا کریں گی۔ یہ دراصل قسطوں ہی کی صورت تھی۔ نبی ﷺ نے اس پر کوئی انکار نہیں فرمایا بلکہ اسے برقرار رکھا، اور منع نہیں کیا۔ بعد میں حضرت عائشہؓ نے انہیں خرید کر قسطیں یکمشت ادا کر دیں۔
چنانچہ قدیم و جدید زمانوں میں مسلمانوں کا عمل بھی اسی پر جاری رہا ہے۔ واللہ أعلم۔ (اسلام ویب )